April 17, 2026

ضعیف پنشنر اور اسٹیٹ لائف کی بے حسی

 ضعیف پنشنر اور اسٹیٹ لائف کی بے حسی

محبوب الہی

———-

شیر چاہے کتنا ہی لمبا عرصہ حکمرانی کرے آخر ایک وقت ایسا آتا ہے جب وہی طاقتور وجود کمزور ہو جاتا ہے۔ یہی حقیقت انسان کی بھی ہے۔ ایک وقت ہوتا ہے جب ایک ملازم اپنی تمام تر جوانی اپنی طاقت اور اپنی تمام تر صلاحیتیں ادارے کے نام کر دیتا ہے۔

 وہ دوڑتا ہے کام سنبھالتا ہے فیصلے کرتا ہے اور نظام کو چلانے والوں میں ہراول دستے کا حصہ ہوتا ہے۔ اس کی پہچان اس کی کارکردگی ہوتی ہے اس کی بات سنی جاتی ہے اور اس کے دستخط کی قدر ہوتی ہے۔

مگر وقت کبھی نہیں رکتا۔ آہستہ آہستہ وہی شخص ریٹائر ہو جاتا ہے۔ جسمانی طاقت کم ہو جاتی ہے اور جسم ساتھ دینا چھوڑ دیتا ہے۔ بڑھاپے کے ساتھ بیماریاں دروازہ کھٹکھٹانے لگتی ہیں

پھر وہی انسان جو کبھی نظام کا حصہ تھا اب اسی نظام کے سامنے ایک درخواست گزار بن کر کھڑا ہوتا ہے۔ وہ علاج چاہتا ہے مگر اسے جواب ملتا ہے کہ منظوری کا انتظار کریں۔ وہ درد کی شدت سے نڈھال ہوتا ہے مگر اسے بتایا جاتا ہے کہ قواعد اس کی اجازت نہیں دیتے

جب وہ مجبور ہو کر اپنی جیب سے علاج کرواتا ہے اور اپنا خرچ واپس مانگتا ہے تو سوالات کی بوچھاڑ کر دی جاتی ہے۔ ایک ضعیف پنشنر یا اس کی بیوہ جو بستر سے اٹھنے کی سکت نہیں رکھتے انہیں ہسپتال جانے کے لیے ایک سادہ سی سواری تک میسر نہیں ہوتی۔ یہاں سوال سہولت کا نہیں بلکہ انسانیت اور اجازت کا بن جاتا ہے۔

 زندگی کے ایک اور تلخ پہلو پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی ریٹائرمنٹ کے بعد شادی کر لے تو اس کی شریک حیات اس نظام کے لیے اجنبی قرار دے دی جاتی ہے۔

گویا ریٹائرمنٹ کے بعد انسان کو اپنی ذاتی زندگی جینے کا کوئی حق نہیں۔ جب کینسر یا دل اور گردے جیسے مہلک امراض سامنے آتے ہیں تو اسٹیٹ لائف کے میڈیکل سسٹم میں علاج کی ایک حد مقرر کر دی جاتی ہے۔

اس حد کے بعد صرف خاموشی ہوتی ہے۔ کیا بیماری کسی کاغذی حد کو مانتی ہے؟ یہ اصول صرف انسان کو بے یار و مددگار چھوڑنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔

حیرت تو اس بات پر ہے کہ اسی نظام میں ایک اور تصویر بھی موجود ہے۔ جب ڈیوٹی کے دوران کسی ملازم کا انتقال ہوتا ہے تو اس کے بچوں کو پی آئی اے میں نوکری دی جاتی ہے اور بیٹی کو شادی تک تمام طبی سہولتیں ملتی ہیں۔

یہ ثابت کرتا ہے کہ نظام جانتا ہے کہ سہارا دینا کیا ہوتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ ایک زندہ لیکن ضعیف انسان کے لیے یہی احساس کیوں دم توڑ دیتا ہے؟

آج جو طاقتور ہے کل وہ بھی کمزور ہوگا۔ آج جو فیصلے کر رہا ہے کل وہ بھی درخواست گزار کی صف میں کھڑا ہوگا۔ اس لیے انصاف کا تقاضا سادہ ہے کہ جو بیمار ہو اس کا علاج مکمل ہو اور جو مجبور ہو اس کا خرچ واپس کیا جائے

جو چل نہیں سکتا اسے سہارا ملے اور جو بڑھاپے میں ساتھی بنائے اس کو بھی طبی حق ملے۔ جو عزت سروس کے دوران تھی وہی بڑھاپے میں بھی برقرار رہنی چاہیے کیونکہ ہر اختیار ختم ہو جاتا ہے اور انسان کے پاس صرف اس کا عمل باقی رہتا ہے۔


تعارف: محبوب الہیٰ سینئر مزدور رہنما اور مسلم لیگ (ن) لیبر ونگ کراچی کے صدر ہیں وہ طویل عرصے سے محنت کشوں کے حقوق اور ان کے مسائل کے حل کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ زیرِ بالا کالم میں انہوں نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے ریٹائرڈ ملازمین کو درپیش سنگین معاشی اور طبی مسائل کی نشاندہی کی ہے، جو برسوں کی خدمت کے باوجود آج حکومتی اور انتظامی بے حسی کا شکار ہیں

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp