April 17, 2026

مزدور کے بچے پر تالہ ، ورکرز ویلفیئر فنڈ کا متنازع فیصلہ

 مزدور کے بچے پر تالہ ، ورکرز ویلفیئر فنڈ کا متنازع فیصلہ

غلام مرتضیٰ تنولی

—————–

پاکستان میں محنت کش طبقہ پہلے ہی کمر توڑ مہنگائی، کم اجرت اور سماجی عدم تحفظ کی چکی میں پس رہا ہے، مگر اب اس کی آنے والی نسلوں کے مستقبل یعنی تعلیم پر قدغن لگانا کہاں کا انصاف ہے؟

ورکرز ویلفیئر فنڈ کی گورننگ باڈی کے حالیہ 166 ویں اجلاس میں کیے جانے والے فیصلے نہ صرف حیران کن ہیں بلکہ لاکھوں مزدور خاندانوں کے لیے ایک افسوسناک پیغام بھی ہیں

یہ وہی فنڈ ہے جو مزدوروں اور آجران کی محنت کی کمائی سے بنتا ہے، جس میں حکومت کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ لیکن افسوس کہ فیصلے ایسے کیے جا رہے ہیں جیسے یہ کسی بیوروکریسی کی ذاتی جاگیر ہو

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس فنڈ کا بنیادی مقصد ہی مزدور کے بچے کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا تھا، آج وہی فنڈ اس کی راہ میں رکاوٹ کیوں بن رہا ہے؟

ماضی میں ایک سادہ، منصفانہ اور شفاف اصول رائج تھا کہ جس بچے کو کسی تسلیم شدہ ادارے میں داخلہ ملا، اس کی فیس ادا ہوگی۔ نہ کوئی پیچیدہ شرط تھی اور نہ ہی نمبروں کی کوئی اونچی دیوار مگر اب 60 اور 80 فیصد کی کڑی شرط عائد کر دی گئی ہے

کیا پالیسی بنانے والے ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر یہ بھول گئے کہ مزدور کا بچہ کن حالات میں پڑھتا ہے؟ جہاں نہ مہنگے اسکول میسر ہیں، نہ ٹیوشن سینٹرز کی سہولت اور نہ ہی گھر میں پڑھائی کے لیے سازگار ماحول ایسے میں اس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اشرافیہ کے بچوں کا مقابلہ کر کے اتنے بلند نمبر حاصل کرے

درحقیقت اسے تعلیم سے محروم کرنے کا ایک ‘خاموش ہتھیار’ ہے۔ یہ پالیسی نہیں، بلکہ معاشرے میں طبقاتی تقسیم کو مزید گہرا کرنے کی ایک شعوری کوشش ہے۔

آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 25-A ہر بچے کو تعلیم کا بنیادی حق دیتا ہے جبکہ آرٹیکل 37(b) ریاست کو پابند بناتا ہے کہ وہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کرے

پھر یہ فیصلہ کس آئینی جواز کے تحت کیا گیا؟ کیا یہ بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی نہیں؟

مزید یہ کہ سیلف ایجوکیشن اسکیم کو ختم یا محدود کرنا اس بات کی علامت ہے کہ اب مزدور نہ خود آگے بڑھ سکتا ہے اور نہ اپنے بچوں کو ترقی کرتا دیکھ سکتا ہے

یہ فیصلہ دراصل ایک واضح پیغام ہے کہ اعلیٰ تعلیم صرف ان کے لیے ہے جو پہلے سے مراعات یافتہ ہیں اس صورتحال میں اربابِ اختیار سے سوال طلب ہے کہ کیا اس ملک میں مزدور کا بچہ صرف مزدور بننے کے لیے ہی پیدا ہوتا ہے؟

ورکرز ویلفیئر فنڈ مزدوروں کی امانت ہے کسی بیوروکریٹ کی ملکیت نہیں اگر آج مزدور کے بچے کے ہاتھ سے قلم چھینا گیا، تو کل یہی ہاتھ احتجاج کے لیے اٹھیں گے اور یہ احتجاج صرف سڑکوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عدالتوں کے دروازے بھی کھٹکھٹائے جائیں گے

وقت کا تقاضا ہے کہ اس مزدور دشمن فیصلے کو فوری طور پر واپس لیا جائے، داخلے کی بنیاد پر فیس ادائیگی کی سابقہ پالیسی بحال کی جائے، سیلف ایجوکیشن اسکیم کو مکمل طور پر بحال کیا جائے۔

ورنہ یہ معاملہ صرف ایک پالیسی کا نہیں رہے گا، بلکہ یہ مزدور کے حق اور ریاست کی ذمہ داری کے درمیان ایک کھلی جنگ بن جائے گا


تعارف، غلام مرتضیٰ تنولی پاکستان فیڈریشن آف کیمیکل، انرجی، مائنز اینڈ جنرل ورکرز یونین کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکریٹری ہونے کے ساتھ ساتھ افکو انصاف محنت کش یونین کے جنرل سیکریٹری کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں، پاکستان کی مزدور تحریک کی ایک فعال اور متحرک آواز ہیں آپ گذشتہ کئی برسوں سے صنعتی ملازمین کے حقوق لیبر قوانین کی اصلاح اور محنت کشوں کے بچوں کے تعلیمی حقوق کے لیے ہر سطح پر جدوجہد کر رہے ہیں

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp