نمک کی برآمدات میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے کسٹمز اور صنعتی نمائندوں میں اتفاق
ورکرز ویلفیئر فنڈ کا محنت کشوں کے بچوں کی تعلیم پر شب خون
مختار اعوان
———–
پاکستان کے صنعتی اور معاشی ڈھانچے میں محنت کش کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی جیسی ہے، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ جب اسی محنت کش کے بچوں کی تعلیم اور مستقبل کا سوال آتا ہے تو پالیسی سازوں کے قلم ‘مزدور دشمن فیصلے کرنے میں دیر نہیں لگاتے
ورکرز ویلفیئر فنڈ کی گورننگ باڈی نے اپنے 166 ویں اجلاس میں تعلیمی وظائف کے حوالے سے جو سخت شرائط عائد کی ہیں، وہ نہ صرف اس فنڈ کے بنیادی مقصد کی نفی ہے بلکہ لاکھوں بچوں کے مستقبل کو اندھیرے میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔
سب سے پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ورکرز ویلفیئر فنڈ کوئی سرکاری عطیہ یا خیرات نہیں ہے، بلکہ یہ ان محنت کشوں کے پسینے اور صنعتی اداروں کے منافع سے بننے والا ایک امانتی ادارہ ہے
اس فنڈ کا قیام ہی اس لیے عمل میں لایا گیا تھا کہ صنعتی ترقی کے اصل معماروں اور ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود، خاص طور پر ان کے بچوں کی تعلیم کو یقینی بنایا جا سکے
ماضی میں یہ سہولت ہر اس بچے کو میسر تھی جسے کسی بھی تسلیم شدہ تعلیمی ادارے میں اپنی قابلیت کی بنیاد پر داخلہ مل جاتا۔ اس وقت معیار صرف علم کا حصول تھا،
لیکن اب 60 اور 80 فیصد جیسے بھاری نمبروں کی شرط عائد کر کے اس دروازے کو مقفل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک غریب مزدور کا بچہ جو بنیادی سہولیات سے محروم سرکاری اسکولوں یا کچی بستیوں کے تعلیمی ماحول میں پلتا ہے ان مراعات یافتہ طبقوں کا مقابلہ کر سکتا ہے جنہیں مہنگی ٹیوشنز، جدید ٹیکنالوجی اور اے سی والے کلاس رومز میسر ہیں؟
مزدور کا بچہ جن حالات میں پڑھتا ہے وہاں 60 یا 80 فیصد نمبر لانا کسی معجزے سے کم نہیں۔ یہ نئی شرط درحقیقت اعلیٰ تعلیم کو صرف امراء کے لیے مخصوص کرنے اور مزدور کے بچے کے راستے میں دیوار کھڑی کرنے کی ایک شعوری کوشش ہے
کیا اس نظام کا مقصد مزدور اور اس کی نسلوں کو ہمیشہ کے لیے جہالت کی زنجیروں میں جکڑے رکھنا ہے تاکہ وہ کبھی اپنے حقوق کے لیے شعور حاصل نہ کر سکیں؟
حالیہ فیصلوں میں سب سے زیادہ افسوسناک پہلو سیلف ایجوکیشن اسکیم کا خاتمہ ہے۔ یہ اسکیم ان ہزاروں کارکنوں کے لیے امید کی ایک کرن تھی جو دورانِ ملازمت اپنی تعلیم جاری رکھ کر اپنے سماجی مرتبے اور پیشہ ورانہ مہارت کو بلند کرنا چاہتے تھے
اس اسکیم کی بندش سے ان محنت کشوں کے خواب چکنا چور ہو گئے ہیں جو مزدوری کے ساتھ ساتھ علم کی شمع روشن رکھنا چاہتے تھے تعلیم کے ذریعے ترقی کا راستہ روکنا درحقیقت ایک باشعور معاشرے کی تشکیل کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا ہے
پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن ان ظالمانہ فیصلوں کو یکسر مسترد کرتی ہے یہ فیصلے مزدوروں کے آئینی اور قانونی حقوق پر براہِ راست حملہ ہیں۔ ہمارا مطالبہ واضح اور دو ٹوک ہے تعلیمی وظائف کے لیے نمبروں کی شرط فوری ختم کی جائے اور پرانی داخلہ پالیسی بحال کی جائے،
سیلف ایجوکیشن اسکیم کو فی الفور دوبارہ فعال کیا جائے، مزدوروں کے وسائل کو کسی دوسرے منصوبے میں منتقل کرنے کے بجائے صرف اور صرف ان کی فلاح و بہبود اور تعلیم پر خرچ کیا جائے
حکومت اور پالیسی سازوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ بکھرے ہوئے محنت کش شاید بظاہر خاموش نظر آئیں لیکن جب بات ان کی نسلوں کے مستقبل اور ان کے بچوں کے قلم چھیننے کی آئے گی تو وہ ایک متحد اور ناقابلِ شکست طاقت بن کر سامنے آئیں گے
محنت کشون کے بچوں کی تعلیم پر شب خون مارنے والے فیصلے کبھی کامیاب نہیں ہونے دیے جائیں گے ہم محنت کشوں کے بچوں کے لیے قلم اور کتاب کا حق چھیننے والوں کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کریں گے
تعارف : مختار اعوان پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن، جنوبی پنجاب کے منتخب جنرل سیکرٹری ہیں ان کا شمار پاکستان کی مزدور تحریک کے صفِ اول کے رہنماؤں میں ہوتا ہے گذشتہ تین دہائیوں سے محنت کشوں کے حقوق، لیبر قوانین کی بالادستی اور صنعتی انصاف کے لیے سرگرمِ عمل ہیں، نہ صرف جنوبی پنجاب بلکہ ملک گیر سطح پر ٹریڈ یونین تحریک کو منظم کرنے اور مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں
