نمک کی برآمدات میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے کسٹمز اور صنعتی نمائندوں میں اتفاق
سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ سے ڈیتھ گرانٹ کا رکنا تشویشناک ہے
طفیل احمد میمن
————–
سندھ بھر میں محنت کشوں کے حقوق اور ان سے جڑے مسائل پر نظر رکھنے والے حلقوں میں آج کل ایک ہی سوال زیرِ بحث ہے کہ کیا ادارے واقعی مزدوروں کی فلاح کے لیے کام کر رہے ہیں یا صرف بیانات تک محدود ہیں
سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ کی مجموعی کارکردگی اور بالخصوص حیدرآباد ڈویژن میں طویل عرصے سے رکی ہوئی اسکیمیں اس وقت ایک سنگین انسانی مسئلہ بن چکی ہیں
مزدوروں کے لیے حکومت کی جانب سے شروع کی گئی تمام اسکیمیں اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہیں لیکن ڈیتھ گرانٹ کا معاملہ سب سے حساس ہے۔ یہ وہ رقم ہے جو کسی محنت کش کی وفات کے بعد اس کے پسماندگان کو دی جاتی ہے تاکہ وہ مشکل وقت میں سہارا حاصل کر سکیں۔
حیدرآباد ڈویژن میں ڈیتھ گرانٹ کے منظور شدہ کیسز کا رک جانا انتہائی تشویشناک ہے یہ محض ایک انتظامی تاخیر نہیں بلکہ غریب اور نادار بیواؤں اور یتیم بچوں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے
سوال یہ ہے کہ جب فنڈز موجود ہیں اور کیسز بھی منظور ہو چکے ہیں تو پھر ادائیگیوں میں رکاوٹ کیوں کھڑی کی جا رہی ہے؟
ایک اور تلخ حقیقت وہ ملاقاتیں ہیں جو مختلف مزدور تنظیموں اور فیڈریشنز کے نمائندے متعلقہ افسران کے ساتھ کرتے ہیں۔ ان ملاقاتوں کے بعد اخبارات اور سوشل میڈیا پر خوشگوار ماحول میں ملاقات اور مسائل جلد حل کرنے کی یقین دہانیوں کے بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں
تصاویر جاری ہوتی ہیں جن میں مسکراتے چہرے نظر آتے ہیں اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ جیسے تمام رکاوٹیں دور کر دی گئی ہیں۔
لیکن اگر واقعی افسران اتنے سنجیدہ ہیں اور ہدایات جاری کی جا رہی ہیں تو پھر حیدرآباد ڈویژن کی فائلیں کیوں دھول چاٹ رہی ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ فوٹو سیشنز صرف ذاتی کارکردگی دکھانے کا ذریعہ بن کر رہ گئے ہیں
زمینی حقائق گواہ ہیں کہ مزدور آج بھی انہی دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہے اور اس کی امیدیں مسلسل دم توڑ رہی ہیں
یہ وقت اب بیانات اور تسلیوں کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا ہے مزدور نمائندوں اور متعلقہ حکام کو اس مسئلے کی سنگینی کا ادراک کرنا ہوگا۔ بیواؤں اور یتیموں کا حق روکنا کسی بھی طور پر جائز نہیں ہے
انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر تمام منظور شدہ اسکیموں کے چیک جاری کرے تاکہ ان خاندانوں کی دادرسی ہو سکے
مزدور طبقہ اب صرف ان اقدامات کا منتظر ہے جو ان کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لائیں نہ کہ ان کاغذی کارروائیوں کا جو صرف ریکارڈ کا حصہ بن کر رہ جاتی ہیں
تعارف ، طفیل احمد میمن مہران شوگر ملز مزدور یونین سی بی اے کے سئینر جنرل سیکریٹری کے عہدے پر فائز رہے محنت کشوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے ایک سرگرم سماجی کارکن اور تجزیہ نگار ہیں۔ طویل عرصے سے مزدوروں سے منسلک مختلف گروپس اور تنظیموں کے ذریعے سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ اور دیگر متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ آپ کا مقصد محنت کش طبقے، یتیموں اور بیواؤں کے قانونی حقوق کی فراہمی کے لیے شعور اجاگر کرنا اور متعلقہ حکام تک ان کی آواز پہنچانا ہے
