July 23, 2026

فرانس میں غیر اعلانیہ مزدوری کا بحران

 فرانس میں غیر اعلانیہ مزدوری کا بحران

 رپورٹ ( خرم صفی، نمائندہ لیبر نیوز فرانس)

فرانس، جو اپنی مضبوط سماجی اقدار اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے دنیا بھر میں ایک مثال مانا جاتا ہے، ان دنوں ایک خاموش معاشی وبا کی زد میں ہے

غیر اعلانیہ مزدوری یا بلیک لیبر کے بڑھتے ہوئے رجحان نے نہ صرف فرانسیسی معیشت کی بنیادیں ہلا دی ہیں بلکہ محنت کش طبقے کو ایک ایسے تاریک راستے پر دھکیل دیا ہے جہاں نہ کوئی قانونی تحفظ ہے اور نہ ہی مستقبل کی ضمانت ہے

فرانسیسی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق روزگار کے شعبے میں ہونے والے اس فراڈ کی وجہ سے قومی خزانے کو سالانہ 7 سے 10 ارب یورو کا نقصان ہو رہا ہے۔ یہ وہ رقم ہے جو سوشل سیکیورٹی، ہیلتھ انشورنس اور پنشن کی مد میں سرکاری خزانے میں جانی چاہیے تھی

جب کمپنیاں اپنے ملازمین کو رجسٹر کیے بغیر نقد رقم پر کام دیتی ہیں، تو وہ ریاست کو واجب الادا بھاری ٹیکسوں سے بچ جاتی ہیں۔ اس کا براہِ راست اثر فرانس کے مشہور سوشل ماڈل پر پڑ رہا ہے، جس کے تحت شہریوں کو مفت علاج اور بے روزگاری الاؤنس جیسی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں

فرانس میں  تعمیرات  ہوٹل و ریسٹورنٹس، اور تیزی سے ابھرتی ہوئی گیگ اکانومی ڈیلیوری سروسز اس فراڈ کے گڑھ بن چکے ہیں

تعمیراتی شعبے میں اکثر ذیلی ٹھیکیدارغیر ملکی یا غیر دستاویزی تارکینِ وطن کو سستے داموں کام پر رکھتے ہیں۔ ان مزدوروں سے سخت مشقت لی جاتی ہے، لیکن کاغذات میں ان کا کوئی وجود نہیں ہوتا

اسی طرح پیرس اور دیگر بڑے شہروں میں ڈیلیوری ایپس کے لیے کام کرنے والے نوجوان اکثر دوسروں کے اکاؤنٹس استعمال کر کے یا بغیر کسی قانونی معاہدے کے کام کر رہے ہیں، جو اس منظم فراڈ کا حصہ بن جاتے ہیں

فرانس میں اعلانیہ مزدوری بظاہر مزدور کو فوری نقد رقم فراہم کرتی ہے لیکن طویل مدت میں یہ ان کے لیے تباہ کن ہے۔

ایسے ملازمین کسی بھی کام کے دوران ہونے والے حادثے کی صورت میں میڈیکل کلیم نہیں کر سکتے۔ وہ پنشن کے حقدار نہیں ہوتے اور نہ ہی انہیں تنخواہ کے ساتھ چھٹیاں ملتی ہیں

سب سے بڑھ کر یہ کہ مالکان کسی بھی وقت انہیں بغیر کسی نوٹس یا معاوضے کے کام سے نکال سکتے ہیں۔ یہ صورتحال محنت کشوں کو ایک دائمی عدم تحفظ کا شکار کر رہی ہے، جہاں وہ اپنی جائز شکایات لے کر عدالت یا لیبر یونین کے پاس بھی نہیں جا سکتے

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت نے اس روزگار فراڈ کے خلاف جنگ کا اعلان کر رکھا ہے۔

لیبر انسپکٹرز کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے ذریعے ان کمپنیوں کا سراغ لگایا جا رہا ہے جو اپنے منافع کے لیے قومی قوانین کو پامال کر رہی ہیں

فرانسیسی لیبر ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ اتنا گہرا ہو چکا ہے کہ صرف جرمانے کافی نہیں ہوں گے۔ سستی لیبر کی طلب اور پیچیدہ کاروباری سپلائی چینز اس فراڈ کو چھپانے میں مدد دیتی ہیں۔

اگر فرانس اس غیر قانونی مزدوری کو روکنے میں ناکام رہا تو اس سے نہ صرف معاشی توازن بگڑے گا بلکہ معاشرے میں بے چینی بھی بڑھے گی۔

ایماندار کمپنیاں، جو تمام ٹیکس ادا کرتی ہیں، ان کمپنیوں کا مقابلہ نہیں کر پاتیں جو چوری کے ذریعے اپنی لاگت کم رکھتی ہیں

یہ غیر منصفانہ مقابلہ فرانس کے صنعتی ڈھانچے کو کمزور کر رہا ہے۔ آج فرانس اس موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے اپنے محنت کشوں کے وقار اور معاشی استحکام کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے سخت ترین فیصلے کرنے ہوں گے

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp