اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
برطانیہ کا مہنگی لیبر کا سامنا سنگین ہوگیا
رپورٹ : ممتاز اعوان
برطانیہ اس وقت ایک ایسی معاشی کشمکش کی زد میں ہے جہاں ایک طرف افراطِ زر کو قابو کرنے کی کوششیں جاری ہیں، تو دوسری طرف کاروباری اداروں کا اعتماد تیزی سے گر رہا ہے برطانوی کمپنیوں کے لیے اس وقت سب سے بڑا سر درد لیبر اخراجات بن چکے ہیں جس نے کاروباری اعتماد کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے
برطانیہ میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبارسے لے کر بڑی کارپوریشنز تک، سبھی بڑھتی ہوئی اجرتوں اور ملازمین سے وابستہ دیگر اخراجات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں
نیشنل انشورنس کے واجبات میں اضافہ اور کم از کم اجرت کی نئی حد مقرر ہونے کے بعد کمپنیوں کے لیے منافع کا تناسب برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب لیبر اخراجات بڑھتے ہیں تو کمپنیاں یا تو اپنی مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہوتی ہیں یا پھر نئی سرمایہ کاری اور بھرتیوں کا عمل روک دیتی ہیں۔
برطانیہ کو اس وقت صرف مہنگی لیبر کا ہی سامنا نہیں، بلکہ ہنرمند افرادی قوت کی شدید کمی کا بھی سامنا ہے۔ بریکسٹ کے بعد سے یورپی ممالک سے آنے والے محنت کشوں کی تعداد میں کمی اور مقامی سطح پر مخصوص مہارتوں کے فقدان نے لیبر مارکیٹ میں ایک خلا پیدا کر دیا ہے
اس خلا کو پُر کرنے کے لیے کمپنیاں زیادہ تنخواہوں کی پیشکش کر رہی ہیں، جو کہ بظاہر ملازمین کے لیے اچھا ہے، لیکن طویل مدت میں یہ عمل ‘ویج پرائس اسپائرل اجرت اور قیمتوں کا چکر کو جنم دے رہا ہے، جس سے مہنگائی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے
کاروباری اعتماد کے گرنے کا براہِ راست اثر برطانیہ کی مجموعی داخلی پیداوار پر پڑ رہا ہے۔ جب کاروباری مالکان مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہوتے ہیں تو وہ طویل مدتی منصوبوں اور ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں
متعدد برطانوی اداروں نے اپنے توسیعی منصوبے فی الحال کولڈ اسٹوریج میں ڈال دیے ہیں جس کا مطلب ہے کہ آنے والے مہینوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی شرح میں کمی آ سکتی ہےبرطانوی حکومت ایک طرف معیشت کو ترقی دینے کے دعوے کر رہی ہے لیکن دوسری طرف کاروباری تنظیموں کا کہنا ہے کہ ٹیکسوں کا موجودہ ڈھانچہ اور لیبر قوانین تجارت دوست نہیں ہیں
کنفیڈریشن آف برٹش انڈسٹری سمیت کئی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کو لیبر مارکیٹ میں لچک پیدا کرنے اور کمپنیوں پر مالی بوجھ کم کرنے کے لیے فوری اصلاحات کرنی چاہئیں ان کا مؤقف ہے کہ اگر کاروباری لاگت اسی طرح بڑھتی رہی تو برطانیہ عالمی سطح پر اپنی مسابقتی حیثیت کھو سکتا ہے
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آنے والے چند ماہ برطانوی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اگر بینک آف انگلینڈ شرحِ سود میں کمی کرتا ہے اور حکومت کاروباری اداروں کو کچھ رعایتیں فراہم کرتی ہے تو شاید اعتماد کی بحالی ممکن ہو سکے
تاہم فی الحال صورتحال یہ ہے کہ پیرس اور لندن جیسے بڑے معاشی مراکز میں احتجاجی لہروں اور بڑھتے ہوئے اخراجات نے سرمایہ کاروں کو دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر مجبور کر دیا ہے
برطانیہ کی معاشی بقا کا دارومدار اب اس بات پر ہے کہ وہ کس طرح بڑھتے ہوئے لیبر اخراجات اور کاروباری استحکام کے درمیان توازن برقرار رکھتا ہے
