نمک کی برآمدات میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے کسٹمز اور صنعتی نمائندوں میں اتفاق
مہنگا پیٹرول اور محنت کشوں کا عالمی احتجاج
رپورٹ ( طیبہ تاثیر، نیوز ایڈیٹر – لیبر نیوز )
دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافے اور قوتِ خرید میں تیزی سے ہوتی کمی نے عالمی سطح پر ایک بڑے بحران کو جنم دے دیا ہے۔
سال 2026 کے ماہ اپریل کے دوران پیرس کی گلیوں سے لے کر جکارتہ کے چوراہوں تک محنت کشوں کا ایک ایسا سمندر سڑکوں پر نظر آیا جو نہ صرف اپنی اجرتوں میں اضافے کا مطالبہ کر رہا ہے بلکہ موجودہ عالمی معاشی نظام کے خلاف ایک کھلی چارج شیٹ بھی پیش کر رہا ہے
یورپ مہنگائی اور ہڑتالوں کی زد میں ہے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہزاروں محنت کشوں نے ‘بڑھتی قیمتیں اور جمود کا شکار تنخواہیں کے عنوان سے احتجاجی مارچ کیا۔ ٹریڈ یونینز کا کہنا ہے کہ توانائی کے بحران نے عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی مشکل کر دی ہے
لندن میں بھی ٹرانسپورٹ اور ڈاک کے شعبے سے وابستہ لاکھوں ملازمین نے احتجاج کرتے ہوئے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ اگر افراطِ زر کے تناسب سے تنخواہوں میں اضافہ نہ کیا گیا تو ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی
یورپ میں یہ احتجاج محض معاشی نہیں بلکہ سیاسی رنگ بھی اختیار کر رہا ہے، جہاں عوام حکومتوں سے یوکرین جنگ کے اثرات اور توانائی کی پالیسیوں پر نظرثانی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ایشیا میں مزدورا پنی بقا کی جنگ پہلے سے ہی لڑ رہے ہیں دوسری جانب انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں ہزاروں مزدوروں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا ہے مظاہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اچانک 30 فیصد اضافے نے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو آگ لگا دی ہے
ایشیائی ممالک میں جہاں پہلے ہی سماجی تحفظ کا نظام کمزور ہے وہاں اس معاشی دباؤ نے محنت کش طبقے کو خطِ غربت سے نیچے دھکیل دیا ہے۔ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں بھی اسی طرح کی بے چینی دیکھی جا رہی ہے جہاں لوگ سڑکوں پر نکل کر حکومتوں سے سبسڈی کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں
عالمی احتجاج کی یہ لہر پاکستان تک بھی پہنچ چکی ہے۔ پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن، بلوچستان لیبر فیڈریشن اور حقوقِ خلق پارٹی نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن ، سندھ لیبر فیڈریشن ، وطن دوست مزدور فیڈریشن ، ملی لیبر فیڈریشن ، لیبر رائیٹس کمیشن آف پاکستان سمیت متعدد مزدور تنظیموں نے پیٹورولیم کی بڑھتی قیمتوں پر شدید احتجاج کیا ہے
اور موجودہ معاشی پالیسیوں کو مزدور دشمن قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد نے غریب کی کمر توڑ دی ہے
مزدور رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ جب تک بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتوں کو عام آدمی کی پہنچ میں نہیں لایا جاتا، احتجاج کا یہ سلسلہ تھمنے والا نہیں ہے پاکستان میں لیبر فیڈریشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ نہ کیا گیا تو بڑے شہروں میں شٹ ڈاؤن کیا جائے گا
اس احتجاجی لہر کا سب سے اہم پہلو عالمی مزدور اتحاد کا ابھرنا ہے۔ ٹریڈ یونینز اب سرحدوں سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ ملٹی نیشنل کمپنیوں اور عالمی مالیاتی اداروں پر دباؤ ڈالا جا سکے
ماہرینِ معاشیات کا خیال ہے کہ اگر حکومتوں نے فوری طور پر عوامی ریلیف کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کیے اور اجرتوں میں اضافہ نہ کیا گیا تو یہ چھوٹی چھوٹی احتجاجی لہریں مل کر ایک بڑے عالمی معاشی انقلاب کی شکل اختیار کر سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی سیاست پر بھی گہرے ہوں گے
آج کا محنت کش صرف روٹی نہیں بلکہ اپنے وقار اور محفوظ مستقبل کا تقاضہ کر رہا ہے، اور پیرس سے جکارتہ تک کی یہ سڑکیں اس سچائی کی گواہی دے رہی ہیں
