پینٹاگون کا لیبر یونین ختم کرنے کا حکم، امریکی لیبر یونینز اور انتظامیہ میں تصادم
نیا پنجاب لیبر کوڈ 2026 یا نئے سوالات؟
رپورٹ ( عامر سہیل ،ریذیڈینٹ ایڈیٹر پنجاب )
حکومتِ پنجاب کی جانب سے متعارف کرایا گیا پنجاب لیبر کوڈ 2026 صوبے کے لیبر قوانین میں ایک بڑی اور ہمہ جہت تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ کوڈ سابقہ منتشر قوانین کو یکجا کرنے، طریقہ کار کو واضح بنانے اور بعض سماجی تحفظات کو مضبوط کرنے کی کوشش ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس کے حقیقی اثرات کا انحصار مؤثر نفاذ اور صنعتی فریقین کے کردار پر ہوگا۔
کوڈ کے سیکشن 136 کے تحت پہلی بار پارٹ ٹائم ملازمت کو باقاعدہ قانونی شناخت دی گئی ہے۔ ماضی میں ڈبل ایمپلائمنٹ کی ممانعت کے باعث پارٹ ٹائم انتظامات قانونی ابہام کا شکار رہتے تھے
نئی شق افرادی قوت کے انتظام میں لچک پیدا کرتی ہے، تاہم یہ بھی سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا اس سے کل وقتی ملازمتوں میں کمی تو نہیں آئے گی؟
سیکشن 145 کے مطابق آجر اب HR پالیسی یا انٹرنل ورک ریگولیشن یکطرفہ طور پر تبدیل نہیں کر سکے گا۔ سی بی اے یا ورکس کونسل سے مشاورت، 21 دن میں جواب اور چیف انسپکٹر آف فیکٹریز کی منظوری لازمی قرار دی گئی ہے۔
ماضی میں اس حوالے سے واضح میکنزم نہ ہونے کے باعث تنازعات جنم لیتے تھے۔ یہ تبدیلی صنعتی جمہوریت کو مضبوط کر سکتی ہے، بشرطیکہ نمائندہ ادارے مؤثر ہوں۔
سیکشن 147 کے تحت حاملہ ملازمہ کی برطرفی ممنوع قرار دی گئی ہے۔ اسی طرح میٹرنٹی لیو 12 سے بڑھا کر 14 ہفتے (سیکشن 197) اور پیرنٹل لیو 14 دن (سیکشن 198) مقرر کی گئی ہے۔
زچگی سے قبل آخری دو ماہ میں اوور ٹائم پر پابندی بھی شامل ہے۔ ماہرین اسے مثبت پیش رفت قرار دیتے ہیں، تاہم چھوٹے صنعتی یونٹس میں عملدرآمد ایک چیلنج ہو سکتا ہے۔
سیکشن 150 کے تحت نوٹس پیریڈ کے دوران ہر ہفتے ایک ورکنگ ڈے رخصت کا حق دیا گیا ہے۔ سیکشن 155 میں انکوائری 40 دن میں مکمل اور 7 دن میں فیصلہ جاری کرنے کی مدت مقرر کی گئی ہے۔
ماضی میں کارروائیاں غیر معینہ مدت تک لٹکی رہتی تھیں۔ نئی شقیں انتظامی شفافیت میں اضافہ کر سکتی ہیں۔
سیکشن 192 کے تحت سالانہ رخصت 14 سے بڑھا کر 21 دن کر دی گئی ہے۔ اتوار اور سرکاری تعطیلات کو بھی رخصت میں شمار کیا جائے گا۔ پروبیشن مکمل کرنے والے ملازم کو تناسبی بنیاد پر رخصت کا حق دیا گیا ہے،
جبکہ 30 دن جمع شدہ رخصت کی مکمل تنخواہ پر انکیشمنٹ کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ مالی فائدہ ملازمین کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے، تاہم بعض صنعتکار اضافی لاگت پر تحفظات رکھتے ہیں۔
