June 7, 2026

جبری مشقت، امریکی ٹیرف میں اضافہ دباؤ کی سیاست یا معاشی نقصان؟

 جبری مشقت، امریکی ٹیرف میں اضافہ دباؤ کی سیاست یا معاشی نقصان؟

رپورٹ ، طیبہ تاثیر، ایڈیٹر لیبر نیوز فارن ڈیسک

امریکہ کی جانب سے درآمدی ڈیوٹی یا ٹیرف میں ممکنہ اضافے سے ایشاء کے دیگر ممالک سمیت بنگلہ دیش میں محنت کشوں کے حقوق اور کام کے ماحول کو بہتر بنانے میں کوئی مدد نہیں ملے گی، بلکہ اس کے برعکس ملکی برآمدات اور غریب محنت کش شدید متاثر ہو سکتے ہیں

سی پی ڈی کی جانب سے جاری کردہ حالیہ تجزیاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عالمی تجارتی نظام میں سزا کے طور پر بھاری ٹیکس یا پابندیاں عائد کرنے سے کبھی بھی زمینی سطح پر مزدوروں کے حالات نہیں بدلے

تھنک ٹینک کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ٹیرف کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی حکمتِ عملی بنگلہ دیش کی سب سے بڑی برآمدی صنعت، یعنی تیار لباس (گارمنٹس) کے شعبے کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے

رپورٹ کے مطابق اگر امریکہ بنگلہ دیشی مصنوعات پر محصولات میں اضافہ کرتا ہے تو اس کے براہِ راست اثرات درج ذیل صورتوں میں سامنے آ سکتے ہیں

برآمدات کی لاگت بڑھنے سے بین الاقوامی خریدار بنگلہ دیش کے بجائے دیگر ممالک کا رخ کر سکتے ہیں، جس سے فیکٹریاں بند ہونے اور لاکھوں مزدوروں کے بے روزگار ہونے کا خطرہ ہے۔

تیار لباس کے شعبے میں کام کرنے والی افرادی قوت کا ایک بڑا حصہ خواتین پر مشتمل ہے۔ برآمدات میں کمی کا سب سے پہلا اور گہرا اثر ان کم آمدنی والی خواتین محنت کشوں پر پڑے گا۔

فیکٹری مالکان معاشی دباؤ کا عذر پیش کر کے کام کی جگہوں کی حفاظت اور اجرتوں میں اضافے جیسے اقدامات کو مؤخر کر سکتے ہیں۔

سی پی ڈی نے اپنے تجزیے میں اس بات پر سخت زور دیا ہے کہ مزدوروں کے حقوق کا تحفظ بیرونی پابندیوں یا دباؤ کی سیاست سے حاصل نہیں کیا جا جا سکتا۔ حقیقی تبدیلی کے لیے بنگلہ دیش کو خود اپنے اندرونی نظام کو مضبوط کرنا ہو گا۔

تھنک ٹینک نے حکومت اور گارمنٹس فیکٹریوں کے مالکان کو درج ذیل متبادل اور مؤثر اقدامات کی سفارش کی ہے:

مزدوروں کے حقوق کو بہتر بنانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ملکی لیبر قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے، ٹریڈ یونینز کو آزادی سے کام کرنے کی اجازت دی جائے، اور کام کی جگہوں پر حفاظتی معیار کو بین الاقوامی سطح کے مطابق بنایا جائے

ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکہ کو یکطرفہ ٹیرف بڑھانے کے بجائے بنگلہ دیشی حکومت اور صنعتی نمائندوں کے ساتھ مل کر تعمیری مکالمے کا آغاز کرنا چاہیے

تاکہ معیشت کو نقصان پہنچائے بغیر محنت کشوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ طویل مدتی بنیادوں پر، صنعتی امن اور مزدوروں کی فلاح و بہبود ہی بنگلہ دیش کی عالمی منڈی میں بقا کی ضامن ہو سکتی ہے۔

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp