پُرعزم پاکستان کا آغاز، 3 کروڑ سے زائد نوجوانوں کو روزگار دینے کا عزم
اضافی چینی کی برآمد کی اجازت نہ ملی تو کسان اور انڈسٹری تباہ ہو جائیں گے، شوگر ملز ایسوسی ایشن
اسلام آباد( لیبر نیوز کامرس اینڈ ٹریڈ ڈیسک ) پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) نے وفاقی کابینہ کی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اضافی چینی کی برآمد کی اجازت حاصل کی جا سکے۔
چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کو لکھے گئے خط میں واضح کیا ہے کہ کرشنگ سیزن 2025-26 کے دوران چینی کی پیداوار ملکی ضرورت سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔ ملک میں اس وقت 1.3 ملین میٹرک ٹن کا اضافی ذخیرہ موجود ہے، جس کی برآمد سے پاکستان 500 ملین ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ کما سکتا ہے۔
خط میں انتباہ کیا گیا ہے کہ چینی کی قیمتیں پیداواری لاگت سے کم ہونے کے باعث صنعت شدید نقد روانی کے بحران اور مالی خسارے کا شکار ہے، جس سے بینکوں کے قرضے اور گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگلے سیزن میں مزید 2 ملین میٹرک ٹن اضافی چینی متوقع ہے؛ اگر حکومت نے بروقت برآمد کی اجازت نہ دی تو پورا شوگر سیکٹر تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا۔
