سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ سی بی اے یونین نے 24 مطالبات کا چارٹر ڈیمانڈ پیش کر دیا
رپورٹ ( محمد کامران ، نمائندہ لیبر نیوز )
صوبہ سندھ میں فیکٹریوں اور صنعتی اداروں کے محنت کشوں کے فلاحی امور کے ذمہ دار ادارے ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کے اندر ملازمین اور انتظامیہ کے درمیان حقوق کی جنگ تیز ہو گئی ہے۔ ادارے کے تقریباً 3500 ملازمین کی نمائندہ اور رجسٹرڈ سی بی اے یونین پیپلز یونین آف ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کے صدر منتخب عالم نے سیکریٹری بورڈ کو سندھ انڈسٹریل ریلیشن ایکٹ 2013 کے تحت 24 مطالبات پر مشتمل چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کر دیا ہے

پیپلز یونین آف ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کے صدر منتخب عالم کی جانب سے مئی 2026 سے دسمبر 2027 تک کے لیے پیش کیے گئے اس چارٹر میں ملازمین کے دیرینہ اور بنیادی معاشی و انتظامی مسائل کو اجاگر کیا گیا ہے۔

مطالبات میں سب سے نمایاں ہاؤسنگ اسکیم کے تحت ملازمین کو پلاٹوں کی فوری الاٹمنٹ، لیبر اسکوائر سائٹ کراچی کے 40 ملازمین کے لیے 1995 سے رکے ہوئے الاٹمنٹ آرڈرز کا اجراء، اور سال 2022 سے پہلے ریٹائر ہونے والے ملازمین کو پینشن اسکیم میں شامل کرنا ہے۔ اس کے علاوہ وفاق اور دیگر صوبوں کی طرز پر ملازمین کے لیے 15 فیصد تفاوتالاؤنس اور 2011 کے خصوصی فنانشل پیکیج پر فوری عملدرآمد کا تقاضا بھی کیا گیا ہے۔

بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیشِ نظر چارٹر میں ملازمین کے لیے کار ایڈوانس کی حد کو 10 لاکھ سے بڑھا کر 20 لاکھ روپے اور موٹر سائیکل ایڈوانس کو 1 لاکھ سے بڑھا کر 3 لاکھ روپے کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔
اندرونِ سندھ حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، میرپورخاص اور جیکب آباد کے عملے کے لیے بند طبی سہولیات کی بحالی، حج کوٹہ 2 سے بڑھا کر 10 کرنا، اور اقلیتی ہندو و مسیحی ملازمین کے لیے مذہبی مقامات کی زیارت کے کوٹہ اور فنڈز میں اضافے جیسے اہم نکات بھی اس کا حصہ ہیں۔

صوبہ سندھ میں فیکٹریوں، کارخانوں اور صنعتی اداروں میں کام کرنے والے لاکھوں محنت کشوں کے سماجی و تعلیمی تحفظ کے ذمہ دار ادارے ‘ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کے اندر اس وقت ایک نیا انتظامی اور قانونی معرکہ شروع ہو چکا ہے۔
ادارے کے تقریباً 3500 ملازمین کے حقوق کی نمائندہ اور تصدیق شدہ سی بی اے یونین پیپلز یونین آف ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ نے مئی 2026 سے دسمبر 2027 تک کے لیے ایک جامع مطالبات کا چارٹر سیکریٹری بورڈ کو باقاعدہ طور پر پیش کر دیا ہے

یہ چارٹر محض الاؤنسز کی فہرست نہیں، بلکہ یہ اس سفید ہاتھی بنتے ادارے کے ملازمین کی گذشتہ کئی سالوں سے جاری محرومیوں، امتیازی سلوک اور بنیادی انسانی حقوق کی عدم دستیابی کا ایک تفصیلی آئینی مقدمہ ہے۔
اس چارٹر میں سی بی اے کی جانب سے پیش کیے گئے تمام 24 مطالبات کا تفصیلی، دستاویزی اور قانونی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے، جنہیں بنیادی طور پر چار بڑے زمروں: معاشی تحفظ، رہائشی و طبی سہولیات، دفتری مراعات اور مزدور یکجہتی میں تقسیم کیا جا سکتا ہے
چارٹر کا سب سے پہلا اور بنیادی مطالبہ پلاٹوں کی الاٹمنٹ ہے۔ ورکرز ویلفیئر فنڈ اسلام آباد کی گورننگ باڈی کا یہ واضح قانون ہے کہ جو ہاؤسنگ سہولیات صنعتی مزدوروں کو دی جاتی ہیں، وہی بورڈ کے اپنے ملازمین کا بھی حق ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں ملازمین کو پلاٹ مل چکے ہیں، مگر سندھ کے ملازمین تاحال محروم ہیں اس کے ساتھ ہی،
لیبر اسکوائر سائٹ کراچی کے 40 ملازمین کا کیس اٹھایا گیا ہے، جنہیں 1995 کے 82 ویں بورڈ اجلاس میں پلاٹ دینے کا فیصلہ ہوا تھا، مگر انتظامیہ کے تاخیری حربوں کے باعث ان کے الاٹمنٹ آرڈرز آج 31 سال گزرنے کے بعد بھی جاری نہیں ہو سکے
اسی طرح، ملازمین کے لیے خصوصی مالیاتی پیکیج 2011 پر عملدرآمد کا تقاضا کیا گیا ہے، تاکہ ملازمین کے ساتھ جاری طویل امتیاز کا خاتمہ ہو۔
سب سے تشویشناک صورتحال طبی سہولیات کی عدم دستیابی کی ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف سروس رولز 1996 کے تحت کُل طبی سہولیات لازمی ہیں، مگر اندرونِ سندھ حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، میرپورخاص، اور جیکب آباد کا عملہ اس بنیادی ترین انسانی حق سے سرے سے محروم ہے جسے بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ادارے میں پینشن کی باقاعدہ سہولت نہ ہونے کی وجہ سے ریٹائرڈ ملازمین کے خاندان فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔ سی بی اے نے ریٹائرڈ/بیٹے کا کوٹہ فعال کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ہر ریٹائرڈ ملازم کے ایک بچے کو اس کی جگہ ملازمت دی جا سکے، جیسا کہ حال ہی میں معزز سندھ ہائی کورٹ نے کے ٹی پی کے کیس میں فیصلہ دیا ہے۔ ناگہانی اموات کی صورت میں سوگوار خاندانوں کو مالی بحران سے بچانے کے لیے او ڈی جی سی ایل اور پی آئی اے کی طرز پر کفن دفن گرانٹ اور امدادی پیکیج مانگا گیا ہے۔
ادارے کے تحت چلنے والے 6 سیکریٹریٹ ٹریننگ سینٹرز اور ایجوکیشن سیکشن میں سنگین تفاوت موجود ہے۔ اسٹاف کی اپ گریڈیشن کے تحت چیف انسٹرکٹرز، کمپیوٹر آپریٹرز اور اسکول اساتذہ کو ٹائم اسکیل فارمولے کے تحت ترقیاں دینے اور سبجیکٹ ٹیچرز کو گریڈ 16 سے گریڈ 17 میں منتقل کرنے کا مطالبہ شامل ہے، جن کی فائلیں بیوروکریسی کی میزوں پر دھول چاٹ رہی ہیں
چارٹر میں مہنگائی کے موجودہ بدترین تناظر میں ملازمین کے لیے مختلف مراعات تجویز کی گئی ہیںجن میں لیو انکیشمنٹ کی حد کو 6 مہینے سے بڑھا کر تین سال کی جمع شدہ رخصت کے برابر کیا جائے اور کم از کم حد 90 دن سے کم کر کے 60 دن کی جائے
اسٹینو ٹائپسٹ، کیشیئر، ڈیٹا انٹری آپریٹرز اور ڈرائیورز کے لیے 1000 روپے، اور نائب قاصد/چپراسی کے لیے 650 روپے ماہانہ کا خصوصی الاؤنس شامل ہے ملازمین کے لیے کینٹین کا قیام اور بجلی و گیس کے بلوں کی ادائیگی کے لیے باقاعدہ فنڈ جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے
جبکہ کلاس فور کے عملے چوکیدار، سویپر کے لیے 1500 روپے ماہانہ لباس دھلائی الاؤنس کا مطالبہ کیا گیا ہے وزارتِ خزانہ کے احکامات کے مطابق وفاق اور دیگر صوبوں کی طرز پر 15 فیصد ڈسپیریٹی الاؤنس فوری لاگو کیا جائے
یونین کی جانب سے ہیش کیئے گئے چارٹر آف ڈیمانڈ میں گھر کی خریداری کے لیے سالانہ 30 ملازمین کو ہاؤس لون کا اجراء، اور مارکیٹ کی قیمتوں کے مطابق کار ایڈوانس کو 10 لاکھ سے بڑھا کر 20 لاکھ اور موٹر سائیکل ایڈوانس کو 1 لاکھ سے بڑھا کر 3 لاکھ روپے کیا جائے
سی بی اے نے ادارے کے اندر مذہبی رواداری اور اقلیتوں کے حقوق کو بھی چارٹر کا حصہ بنایا ہے۔ حج کوٹہ کو 2 سے بڑھا کر 10 ملازمین کرنے کی تجویز کے ساتھ ہی، ہندو ملازمین اور مسیحی ملازمین کے لیے ملک کے اندر موجود ان کے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے سالانہ کوٹہ 2 سے بڑھا کر 3 ملازمین کرنے اور فی کس 30,000 روپے گرانٹ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جو سندھ سوشل سیکیورٹی میں پہلے سے رائج ہے۔

ملازمتوں کے تحفظ کے حوالے سے ورک چارج ملازمین کی مستقلی کے تحت ہائی کورٹ سکھر بینچ کے احکامات کے مطابق 46 ملازمین کو مستقل کرنے، اور سال 2008 سے ایڈہاک پر کام کرنے والی دو لیڈی انسٹرکٹرز تسنیم لیاقت اور فوزیہ معین کو باقاعدہ کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ، سال 2022 سے پہلے ریٹائر ہونے والے ملازمین کو پینشن اسکیم میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے
انتظامی ڈھانچے کی درستی کے لیے محکمانہ ترقیاتی کمیٹیدی پی سی کا انعقاد اور میٹرک پاس کلاس فور عملے کو جونیئر کلرک کے عہدے پر ترقی دینا بھی چارٹر میں شامل ہے۔
سی بی اے کی فعال کارکردگی کے لیے صدر، جنرل سیکریٹری اور سینئر نائب صدر کو یونین فرائض کے لیے 1000 CC گاڑیاں اور 300 لیٹر پیٹرول فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جیسا کہ واٹر بورڈ اور دیگر صوبائی خودمختار اداروں میں رائج ہے

پنجاب لیبر کوڈ اور ملک بھر میں جاری حالیہ لیبر اصلاحات کے تناظر میں، سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ کی سی بی اے کا یہ اقدام انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ چارٹر واضح کرتا ہے کہ محنت کشوں کا خون پسینہ نچوڑنے والا نظام خود اپنے ملازمین کو بنیادی حقوق دینے سے قاصر ہے۔
اصل چیلنج اب یہ ہے کہ کیا سندھ کی بیوروکریسی ان 24 جائز مطالبات پر سنجیدگی سے مذاکرات کرے گی یا روایتی طور پر فائلوں کو دبا کر ملازمین کو سڑکوں پر نکلنے اور ہڑتال کرنے پر مجبور کرے گی؟ اس کا فیصلہ آنے والے چند ہفتوں میں سندھ ورکرز ویلفئیر بورڈ کی انتظامیہ کے رویے سے ہو جائے گا
