پینٹاگون کا لیبر یونین ختم کرنے کا حکم، امریکی لیبر یونینز اور انتظامیہ میں تصادم
آئی ایل او کا لیبر قوانین کو عالمی معیارات کے مطابق ڈھالنے کے مشن کا آٖغاز
رپورٹ ( ثناء اعجاز ، نمائندہ جنیوا ) بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن نے نیپال کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے ملکی لیبر قوانین کو بین الاقوامی معیارات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوششوں میں تیزی لائے۔
جنیوا اور کاٹھمنڈو کے درمیان ہونے والے حالیہ اعلیٰ سطحی مذاکرات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ نیپال کی معاشی ترقی کے لیے محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ ناگزیر ہے
اصلاحات کا سفر اور عالمی مطالبات کے تناظر میں آئی ایل او نے نیپال کی جانب سے حالیہ برسوں میں کی جانے والی قانون سازی کی تعریف کی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا ہے کہ سماجی انصاف کے حصول کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ نیپال کو اپنے لیبر ایکٹ اور یونین سازی کے قوانین کو آئی ایل او کے بنیادی کنونشنز کے مطابق بنانا چاہیے، تاکہ مزدوروں کو اجتماعی سودے بازی کا مکمل حق حاصل ہو سکے۔
بنیادی چیلنجز اور جبری مشقت اور حفاظتی اقدامات کے حوالے سے نیپال کے لیے سب سے بڑا چیلنج غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والے لاکھوں محنت کشوں کو قانونی چھتری فراہم کرنا ہے۔
آئی ایل او نے خاص طور پر اینٹوں کے بھٹوں، زراعت اور گھریلو صنعتوں میں کام کرنے والے افراد کے حالاتِ کار پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ جبری مشقت اور چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے نفاذِ قانون کے اداروں کو مزید متحرک کیا جائے۔
سماجی تحفظ کا نظام کے تحت آئی ایل او نے نیپال کے ‘کنٹری بیوٹری سوشل سیکیورٹی سکیم’ کو سراہا ہے لیکن اس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک نچلے طبقے کے مزدور کو بیماری، حادثے یا بڑھاپے کی صورت میں مالی تحفظ نہیں ملے گا، تب تک ملک میں پائیدار ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
مستقبل کا لائحہ عمل میں نیپالی حکام نے عالمی برادری کو یقین دلایا ہے کہ وہ بین الاقوامی لیبر اسٹینڈرڈز کی روشنی میں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کر رہے ہیں۔
اس عمل کا مقصد نہ صرف مقامی مزدوروں کی حالت بہتر بنانا ہے بلکہ عالمی منڈی میں نیپالی مصنوعات اور افرادی قوت کی ساکھ کو بھی بہتر بنانا ہے۔
لیبر قوانین پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق نیپال اگر ان اصلاحات پر سختی سے عمل کرتا ہے تو یہ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے،
جہاں لیبر قوانین اور ان کے نفاذ کے درمیان ایک بڑی خلیج موجود ہے
