April 17, 2026

فلسطینی محنت کش خواتین کی جدوجہد اور غزہ میں معاشی تباہی

 فلسطینی محنت کش خواتین کی جدوجہد اور غزہ میں معاشی تباہی

رپورٹ ( عظمی سلطان ، ہیڈ لیبر نیوز فارن ڈیسک ) عالمی یومِ خواتین کے موقع پر فلسطینی وزارتِ محنت کی جانب سے جاری کردہ ایک مفصل رپورٹ نے محنت کش خواتین کی حالتِ زار اور معاشی شراکت داری کے حوالے سے چشم کشا حقائق سامنے رکھ دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، جہاں مغربی کنارے میں خواتین کے روزگار میں معمولی بہتری دیکھی گئی ہے، وہیں غزہ کی پٹی میں جاری جنگ اور اسرائیلی جارحیت نے معیشت کا جنازہ نکال دیا ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر خواتین پر پڑا ہے۔

2025 کی آخری سہ ماہی میں مغربی کنارے میں محنت کش خواتین کی تعداد 1 لاکھ 50 ہزار تک پہنچ گئی ہے، جو پچھلی سہ ماہی کے مقابلے میں تقریباً 5300 کا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ بے روزگاری کی شرح میں بھی 3.3 فیصد کمی آئی ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کمی ملازمتوں کے معیار میں بہتری کی عکاس نہیں ہے۔ فلسطینی خواتین کو آج بھی اجرت کے بڑے فرق کا سامنا ہے؛ جہاں مردوں کی اوسط یومیہ اجرت 141 شیکل ہے، وہیں خواتین کو محض 118 شیکل دیے جاتے ہیں۔

غزہ کی پٹی میں صورتحال انسانی المیے کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ 2024 کے دوران غزہ کی معیشت 83 فیصد تک سکڑ گئی اور بے روزگاری کی مجموعی شرح 80 فیصد سے تجاوز کر گئی۔ اس ہولناک صورتحال میں 57 ہزار سے زائد فلسطینی خواتین ایسی ہیں جو اپنے خاندانوں کی واحد کفیل بن چکی ہیں، لیکن ان کے پاس آمدنی کے کوئی مستقل ذرائع موجود نہیں ہیں۔

ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ فلسطینی خواتین میں اپنے حقوق کے لیے شعور تیزی سے بیدار ہو رہا ہے۔ ٹریڈ یونینز اور پیشہ ورانہ تنظیموں میں خواتین کی رکنیت 29.1 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے، جو مردوں کی رکنیت (15.6 فیصد) کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے۔ خواتین زچگی کی با معاوضہ چھٹیوں اور کام کے محفوظ ماحول کے حصول کے لیے یونین سازی کو ایک ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔

فلسطینی وزیر محنت ایناس العطاری نے کہا ہے کہ خواتین کی معاشی خودمختاری ہماری قومی ترجیح ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والی 41 فیصد سے زائد خواتین کے پاس کوئی تحریری معاہدہ نہیں ہے، جس کی وجہ سے وہ سماجی تحفظ سے محروم ہیں۔ وزارتِ محنت نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ تحریری معاہدوں کی پابندی، کم از کم اجرت کے نفاذ اور غزہ میں خواتین کی سربراہی میں چلنے والے خاندانوں کی معاشی بحالی کے لیے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp