پینٹاگون کا لیبر یونین ختم کرنے کا حکم، امریکی لیبر یونینز اور انتظامیہ میں تصادم
مشرقِ وسطیٰ کی جنگ: پاکستانی معیشت شدید خطرات کی زد میں
رپورٹ ( عظمی سلطان، ہیڈ لیبر نیوز فارن ڈیسک ) پاکستان کی معیشت ایک بار پھر سنگین چیلنجز کا شکار ہو گئی ہے جہاں ایک طرف آئی ایم ایف کے دباؤ پر شرحِ سود میں اضافے کے بادل منڈلا رہے ہیں، تو دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے ملک کی سپلائی چین اور ترسیلاتِ زر کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
ادارہ شماریات کے مطابق فروری میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 7 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو جنوری میں 5.8 فیصد تھی۔ اگرچہ یہ اضافہ حکومت کے مقررہ اہداف کے اندر ہے، لیکن بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اصرار پر 9 مارچ کو ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں ڈسکاؤنٹ ریٹ میں 100 سے 200 بیسس پوائنٹس (1 سے 2 فیصد) تک کے اضافے کا قوی امکان ہے۔ اسٹیٹ بینک نے دسمبر سے شرحِ سود کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھا ہوا ہے، تاہم توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور غذائی اشیاء کی گرانی نے مرکزی بینک کو مشکل فیصلے پر مجبور کر دیا ہے۔
پاکستانی صنعت کاروں نے شرحِ سود میں ممکنہ اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں سود کی شرح پہلے ہی دوگنی ہے، جس سے ہماری مصنوعات عالمی منڈی میں غیر مسابقتی ہو رہی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں 4.8 فیصد نمو دکھا رہے ہیں، مگر صنعتی حلقوں نے اسے چیلنج کرتے ہوئے حالیہ مہینوں میں 150 سے زائد فیکٹریوں کی بندش اور کثیر القومی کمپنیوں کے انخلاء کا حوالہ دیا ہے۔ ماہرین بھی سرکاری ڈیٹا کی شفافیت پر سوال اٹھا رہے ہیں، جس کی تائید آئی ایم ایف نے بھی اپنی رپورٹ میں کی ہے۔
پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت رکنے سے پیدا ہوا ہے۔ خلیجی ریاستوں سے ایندھن کی سپلائی منقطع ہونے کا خدشہ سر اٹھا رہا ہے۔ اگرچہ وزیراعظم نے بحران سے نمٹنے کے لیے کمیٹی بنا دی ہے، لیکن ایندھن کے خریدار کے طور پر پاکستان کے پاس متبادل ذرائع انتہائی محدود ہیں۔ توانائی کے نرخوں میں اضافے اور ایندھن کی قلت نے پیداواری عمل کو مفلوج کرنے کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کا دوسرا بڑا وار ترسیلاتِ زر پر پڑنے والا ہے۔ پاکستان کی کل ترسیلات کا 50 فیصد سے زائد حصہ خلیجی ممالک سے آتا ہے۔ اگر یہ سلسلہ متاثر ہوا تو زرمبادلہ کے ذخائر میں شدید کمی آئے گی اور ملک کا انحصار غیر ملکی قرضوں پر مزید بڑھ جائے گا۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پہلے ہی بڑھنا شروع ہو گیا ہے، جو گزشتہ سال کے 564 ملین ڈالر سرپلس سے گر کر رواں سال 1,074 ملین ڈالر خسارے تک جا پہنچا ہے۔
پاکستان کی معیشت اس وقت اندرونی معاشی سختیوں اور بیرونی جغرافیائی سیاسی بحران کے دوہرے دباؤ میں ہے۔ اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ طویل ہوئی تو اس کے منفی اثرات معیشت کی جڑوں کو مزید کھوکھلا کر دیں گے۔
