April 17, 2026

پاکستان میں مہنگائی کا نیا طوفان؛ افراطِ زر 16 ماہ کی بلند ترین سطح پر

 پاکستان میں مہنگائی کا نیا طوفان؛ افراطِ زر 16 ماہ کی بلند ترین سطح پر

رپورٹ : (جے ایچ خان) پاکستان میں معاشی استحکام کے دعووں کے درمیان مہنگائی کے اعدادوشمار نے ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ فروری کے مہینے میں ہیڈ لائن افراطِ زر 7 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے، جو گزشتہ 16 ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ابھی مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ جنگ اور سرحدوں پر کشیدگی کے مکمل اثرات قیمتوں پر ظاہر ہونا باقی ہیں۔

 مالی سال 2026 کے پہلے آٹھ ماہ میں اوسط افراطِ زر 5.5 فیصد رہی، جو مالی سال 2025 کے 28 فیصد کے مقابلے میں بظاہر کم ہے، لیکن حالیہ ماہانہ اضافہ (0.3 فیصد) اس بات کا اشارہ ہے کہ مہنگائی کا گراف اب دوبارہ اوپر کی طرف مڑ چکا ہے۔

بنیادی افراطِ زر اب بھی 7.6 فیصد کی بلند سطح پر برقرار ہے، جس میں دیہی علاقوں کا بوجھ (8.3 فیصد) شہروں (7.1 فیصد) کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ مالی سال کی آخری سہ ماہی میں افراطِ زر “ڈبل ڈیجٹ” (10 فیصد سے زائد) تک پہنچنے کا قوی امکان ہے، جس کی بڑی وجہ “بیس ایفیکٹ” کا غیر موافق ہونا اور عالمی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔

 فروری میں مہنگائی کے بوجھ کی سب سے بڑی وجہ بجلی کے نرخوں میں 10 فیصد اضافہ رہا۔ صنعتی صارفین کی کراس سبسڈی ختم ہونے کے بعد گھریلو صارفین پر مقررہ چارجز لاگو ہونے سے رہائش، پانی اور بجلی کا سب انڈیکس ماہانہ بنیاد پر 1.9 فیصد بڑھ گیا۔

ٹماٹر (23 فیصد)، تازہ پھل (11.5 فیصد) اور دالیں (8.2 فیصد) ماہانہ بنیاد پر مہنگی ہوئیں۔ رمضان کے اثرات کی وجہ سے تازہ خوراک کی قیمتوں میں بھی 2 فیصد اضافہ ہوا۔

انڈوں اور مرغی کی قیمتوں میں موسمی کمی آئی، جبکہ آلو کی قیمت میں 15.9 فیصد کمی کی وجہ افغانستان کے ساتھ سرحد کی بندش ہے، جس کے باعث برآمدات رکنے سے مقامی منڈی میں مال کی بہتات ہو گئی۔

رپورٹ کے مطابق، ٹرانسپورٹ انڈیکس میں ملنے والا حالیہ ریلیف اب ختم ہونے والا ہے۔ مارچ کے آغاز سے ہی تیل کی قیمتوں میں اضافہ شروع ہو چکا ہے، اور مشرقِ وسطیٰ میں “آبنائے ہرمز” کی بندش نے عالمی سپلائی چین کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

اگر تیل کی قیمتیں بلند رہیں تو نہ صرف افراطِ زر بڑھے گا بلکہ روپیہ بھی دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں، اسٹیٹ بینک کی جانب سے سود کی شرحوں میں کمی کا دور ختم ہو سکتا ہے اور شرح سود میں دوبارہ اضافے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔

مجموعی طور پر، پاکستان کی معیشت اس وقت ایک نازک موڑ پر ہے جہاں عالمی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور بڑھتی ہوئی جی ڈی پی نمو توازنِ ادائیگی کو متاثر کر رہی ہے۔ ان خطرات کے پیشِ نظر، اگلی سہ ماہی میں مہنگائی 8 سے 10 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، جو عوام کی قوتِ خرید پر مزید بوجھ ڈالے گی۔

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp