April 17, 2026

ای او بی آئی میں افرادی قوت کا بحران سے پنشن سسٹم متاثر

 ای او بی آئی میں افرادی قوت کا بحران سے پنشن سسٹم متاثر

رپورٹ (مدثر خان، بیورو چیف لاہور ) وزارت سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل کے ماتحت قومی پنشن ادارہ ایمپلائیز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) کو رواں برس مزید افرادی بحران کا سامنا ہے کیونکہ ادارے کے 35 افسران اور اسٹاف ملازمین 2026 کے دوران ریٹائر ہو جائیں گے۔

ریٹائر ہونے والے افسران میں ڈائریکٹرز، ڈپٹی ڈائریکٹرز، ایگزیکٹو افسران، سپرنٹنڈنٹس، سینئر اسسٹنٹس اور نائب قاصد شامل ہیں۔ ان میں سے بعض ملازمین اس وقت ریٹائرمنٹ سے قبل کی رخصت پر ہیں جبکہ ایک سپرنٹنڈنٹ حال ہی میں وفات پا گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ای او بی آئی میں گزشتہ 12 برسوں سے مستقل بھرتیاں نہ ہونے کے باعث پہلے ہی افرادی قوت میں کمی واقع ہو چکی ہے اور موجودہ عملے کی تعداد صرف 40 فیصد رہ گئی ہے۔ آئین پاکستان کی شق 38 (ج) کے تحت نجی شعبے کے لاکھوں کارکنوں کی رجسٹریشن، ماہانہ کنٹری بیوشن کی وصولی اور بروقت پنشن ادائیگی جیسے وسیع فرائض ای او بی آئی کے ذمہ ہیں، تاہم منظور شدہ افرادی قوت 1476 تک محدود رکھی گئی ہے، جو عملی طور پر ادارے کی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی ہے۔

ای او بی آئی میں آخری بار 2014 میں 295 افسران اور اسٹاف کی بھرتیاں این ٹی ایس کے ذریعے کی گئی تھیں، تاہم امیدواروں کے انٹرویوز مقررہ طریقہ کار کے مطابق نہیں کیے گئے۔ 2017 میں ہونے والی بھرتیوں کو بھی انتظامیہ کی سست روی کی وجہ سے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچایا جا سکا۔

سابق چیئرمین فلائیٹ لیفٹیننٹ (ر) خاقان مرتضیٰ نے 2024 میں 250 افسران کی شفاف بھرتیوں کا منصوبہ تیار کیا تھا، جس کے تحت لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز میں امیدواروں کے تحریری ٹیسٹ کا انعقاد کیا گیا اور جنوری 2025 میں انٹرویوز مکمل ہوئے۔

تاہم ستمبر 2024 میں خاقان مرتضیٰ کی ریٹائرمنٹ اور ادارے میں جونیئر افسر کی کمزور انتظامیہ کے باعث بھرتیوں کے عمل میں رکاوٹیں پیدا ہو گئیں اور کامیاب امیدواروں کو تقرر نامے جاری نہ کیے جا سکے۔

ماہرین کے مطابق اس صورتحال کی وجہ سے نہ صرف ادارے کا نظم و نسق متاثر ہو رہا ہے بلکہ ہزاروں ریٹائرڈ، معذور بیمہ دار اور متوفی پنشنرز کی بیوگان پنشن کے حصول میں مشکلات کا شکار ہیں۔

ادارے میں فیلڈ افسران کی کمی کے باعث رجسٹریشن، کنٹری بیوشن کی وصولی اور پنشن کی بروقت ادائیگی متاثر ہو رہی ہے، جس سے قومی پنشن سسٹم پر برا اثر پڑ رہا ہے۔

ماہرین اور ملازمین کے مطابق فوری بھرتیاں، انتظامی استحکام اور شفافیت کے عمل کی بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ای او بی آئی اپنے فرائض بخوبی انجام دے سکے اور لاکھوں ملازمین و پنشنرز کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ای او بی آئی میں افرادی قوت کی کمی اور بھرتیوں میں تاخیر نہ صرف ادارے کی کارکردگی کو متاثر کر رہی ہے بلکہ لاکھوں افراد کی معاشی سلامتی اور پنشن کے حصول میں بھی رکاوٹ بن رہی ہے۔

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp