April 17, 2026

ترکیہ میں ٹیکسٹائل فیکٹریاں بند، مزدور بیروزگار

 ترکیہ میں ٹیکسٹائل فیکٹریاں بند، مزدور بیروزگار

رپورٹ ( فیصل محمود ، نمائندہ ترکی ) ترکی کی ٹیکسٹائل اور گارمنٹس صنعت، جو طویل عرصے سے ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے، اس وقت شدید بحران سے گزر رہی ہے بڑھتے پیداواری اخراجات، برآمدی آرڈرز میں کمی اور عالمی منڈی میں سخت مقابلے نے

اس شعبے کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد فیکٹریاں بند اور ہزاروں مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں

رپورٹ کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ، خام مال مہنگا ہونا اور بلند شرحِ سود نے ٹیکسٹائل صنعت کے لیے کاروبار جاری رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔

ترک لیرا کی قدر میں کمی کے باوجود برآمدات میں وہ اضافہ نہیں ہو سکا جس کی صنعت کو توقع تھی، کیونکہ یورپ سمیت اہم منڈیوں میں طلب کمزور پڑ گئی ہے۔ خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کارخانے شدید دباؤ کا شکار ہیں، جو یا تو پیداوار کم کر رہے ہیں یا مکمل طور پر بند ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

ترک ٹیکسٹائل ورکرز یونینوں کا کہنا ہے کہ صرف گزشتہ چند مہینوں میں ہزاروں مزدوروں کو ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑا، جبکہ باقی کارکنان کو کم اجرت، غیر یقینی ملازمت اور طویل اوقاتِ کار جیسے مسائل کا سامنا ہے

مزدور رہنماؤں نے حکومت سے فوری ریلیف پیکیج، سبسڈی اور ٹیکس میں نرمی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ صنعت اور روزگار کو بچایا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق ترکی کی ٹیکسٹائل صنعت کو چین، بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے ممالک سے سخت مقابلے کا سامنا ہے، جہاں پیداواری لاگت کم ہے۔ اگر حکومت نے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو یہ بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے،

جس سے نہ صرف لاکھوں مزدور متاثر ہوں گے بلکہ ملکی برآمدات اور مجموعی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp