May 30, 2026

خیبرپختونخوا میں چائلڈ لیبر کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی رپورٹ

  خیبرپختونخوا میں چائلڈ لیبر کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی رپورٹ

پشاور ( عبداللہ خان) محکمہ محنت خیبرپختونخوا کی تازہ رپورٹ کے مطابق صوبے میں چائلڈ لیبر کی صورتحال سنگین ہوتی جارہی ہے، جہاں 5 سے 17 سال کی عمر کے 7 لاکھ 45 ہزار بچے مختلف شعبوں میں مزدوری پر مصروف ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چائلڈ لیبر میں شامل 70 فیصد بچے لڑکے ہیں، جبکہ بڑی تعداد ایسے شعبوں میں کام کرتی ہے جہاں حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

رپورٹ کے مطابق چائلڈ لیبر کے حوالے سے بنوں اور لوئر دیر سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع کے طور پر سامنے آئے ہیں، جہاں بچوں کی مزدوری کی شرح صوبے کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

محکمہ محنت کا کہنا ہے کہ صوبے میں چائلڈ لیبر میں شامل 74 فیصد بچے انتہائی ابتر اور غیر محفوظ حالات میں کام کر رہے ہیں، جبکہ ان کی فلاح و بہبود، تعلیم اور صحت کے لیے کوئی مربوط نظام موجود نہیں۔


چائلڈ لیبر کا سب سے بڑا شعبہ: زراعت

اعداد و شمار کے مطابق چائلڈ لیبر میں شامل سب سے زیادہ بچے زراعت کے شعبے سے وابستہ ہیں، جہاں کم عمر بچے طویل اوقات کار، بھاری مشقت اور کم اجرت کے ساتھ کام کرنے پر مجبور ہیں۔ اس صورتحال کے باعث بچوں میں جسمانی معذوری، ذہنی تناؤ اور سماجی استحصال کے بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

چائلڈ لیبر بڑھنے کی وجوہات

رپورٹ کے مطابق چائلڈ لیبر میں اضافے کے بنیادی عوامل یہ ہیں:

  • معاشی دباؤ اور غربت
  • والدین کی عدم تعلیم
  • اسکولوں اور تعلیمی سہولیات کی کمی
  • سرکاری اداروں کی کمزور نگرانی
  • سستی لیبر کی صنعتی طلب

محکمہ محنت کے مطابق بہت سے خاندان بچوں کی آمدنی کو گھر کا واحد معاشی سہارا قرار دیتے ہیں، جس کے باعث والدین بچوں کو تعلیم کی بجائے کام پر بھیجنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔


حکومت کا ایکشن پلان

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبائی حکومت نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے چائلڈ لیبر ایکشن پلان کی منظوری دے دی ہے جس میں:

  • انسدادِ چائلڈ لیبر یونٹس کی ازسرِنو تنظیم
  • والدین کے لیے معاشی معاونت پروگرام
  • بچوں کی فلاحی اسکیموں کا آغاز
  • لیبر مانیٹرنگ میکانزم کی اصلاح

جیسے اقدامات شامل ہیں۔ آئندہ مرحلے میں متاثرہ بچوں کو تعلیم کی طرف واپس لانے کے پروگرام شروع کیے جائیں گے۔

چیلنجز برقرار

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایکشن پلان مثبت قدم ہے، تاہم قانون پر عملدرآمد، بجٹ کی کمی، ادارہ جاتی کمزوری اور سیاسی ترجیحات کی تبدیلی جیسے عوامل چائلڈ لیبر کے خاتمے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

WhatsApp