کم اجرت، پاکستان کی محنت کش آبادی کا اصل بحران
علی ملک، کراچی
بجٹ 2024-25 کے اعلان کے بعد پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین نثار احمد کھوڑو نے سندھ بھر میں کم از کم اجرت قوانین کی خلاف ورزیوں کا اعتراف کرتے ہوئے سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی ادارے (سیسی) اور محکمۂ محنت کو صوبے میں کم از کم تنخواہ کے نفاذ کی سختی سے ہدایت کی تھی۔ یہ اعتراف سیسی کی 2018 اور 2019 کی آڈٹ رپورٹس کے جائزے کے بعد سامنے آیا، جس میں مزدوروں کو قانونی اجرت کی فراہمی میں نظامی خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔
سیسی انتظامیہ کے مطابق ادارے کے پاس تقریباً سات لاکھ 80 ہزار رجسٹرڈ مزدور ہیں جنہیں کم از کم اجرت دی جا رہی ہے۔ تاہم انہوں نے صوبے بھر میں کم اجرت اور غیر قانونی مزدوری کی وسیع پیمانے پر موجودگی کا اعتراف کیا، خصوصاً اینٹوں کے بھٹوں پر جہاں ان کے مطابق مزدور انتہائی ناگفتہ بہ حالات میں کام کر رہے ہیں۔ راہوجو نے واضح کیا کہ کم از کم اجرت کے نفاذ کی ذمہ داری محکمۂ محنت پر ہے جبکہ سیسی کا کردار صرف ان مزدوروں کی رجسٹریشن تک محدود ہے جو پہلے سے کم از کم تنخواہ وصول کر رہے ہوں۔

اسی مؤقف کی توثیق منیمم ویج بورڈ نے بھی کی، جن کے مطابق بورڈ صرف اجرت مقرر کرتا ہے جبکہ عملدرآمد محکمۂ محنت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شکایات وزیر اعظم پورٹل پر موصول ہوتی ہیں لیکن کارروائی شروع ہوتے ہی کئی ادارے متعلقہ ملازم کو برطرف کر دیتے ہیں جس کے باعث متاثرہ افراد قانونی تحفظ سے محروم رہ جاتے ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق سندھ پے منٹ آف منیمم ویجز ایکٹ کے تحت متاثرہ ملازم تحریری درخواست تنخواہ اتھارٹی میں جمع کرا سکتا ہے، جسے اختیار حاصل ہے کہ وہ آجر کو طلب کرے، ادائیگی کا حکم دے اور عدم تعمیل کی صورت میں جرمانہ یا قید کی سزا بھی سنا سکے۔ تاہم عمل درآمدی نظام کمزور ہونے کے باعث یہ قانونی راستہ عملی طور پر غیر مؤثر بنا ہوا ہے۔

صنعتی مراکز میں کم اجرت کے ساتھ ٹھیکہ نظام کے استعمال کی شکایات بھی عیاں ہیں۔ کراچی کی ایک ڈینم فیکٹری کے ملازمین کے مطابق مستقل عملے اور ٹھیکے پر بھرتی ورکرز کے درمیان اجرت اور اوور ٹائم میں واضح فرق موجود ہے، حالانکہ کام اور ذمہ داریاں مساوی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان اداروں میں بڑی تعداد میں ملازمین کو غیر مستقل ظاہر کر کے سوشل سیکیورٹی، میڈیکل اور قانونی مراعات سے محروم رکھا جاتا ہے۔
مزدور تنظیموں اور سیاسی کارکنوں کا مؤقف ہے کہ انسپکشن سسٹم غیر فعال اور رپورٹنگ کا ڈھانچہ کمزور ہے، جس کے باعث خلاف ورزیوں کا ریکارڈ سرکاری سطح پر سامنے نہیں آتا۔
ٹرانسپرنسی لیبر کے مطابق سیسی کروڑوں روپے واجبات کی وصولی میں ناکام رہی ہے جبکہ ورکرز کے میڈیکل دعوے طویل تاخیر کا شکار رہتے ہیں۔ انہوں نے محکمۂ محنت پر بھی تنقید کی کیونکہ محکمے کے پاس نہ مزدوروں اور نہ صنعتی یونٹس کا کوئی جامع ڈیٹا موجود ہے، جو نگرانی اور نفاذ میں بنیادی رکاوٹ ہے۔

دوسری جانب صنعت کاروں کا مؤقف ہے کہ معاشی حالات، پیداواری لاگت اور کاروباری دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے کم از کم اجرت میں فوری اضافہ ممکن نہیں۔ صنعتی نمائندوں کے مطابق اجرت بڑھانے سے مہنگائی میں اضافہ اور کاروبار کی لاگت بڑھنے کا خدشہ ہے، خصوصاً چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کے لیے یہ بوجھ غیر پائیدار ہو سکتا ہے۔ موجود ریکارڈ، حکومتی بیانات اور مزدور تنظیموں کے مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ سندھ میں کم از کم اجرت سے متعلق قوانین اور ادارہ جاتی ڈھانچہ موجود ہے، تاہم عمل درآمد کے لیے مربوط نظام، ڈیجیٹل رجسٹریشن، فعال انسپکشن اور شکایات کے محفوظ طریقۂ کار کی کمی کے باعث لاکھوں مزدور قانونی حق کے باوجود محرومی کا شکار رہتے ہیں۔
