پینٹاگون کا لیبر یونین ختم کرنے کا حکم، امریکی لیبر یونینز اور انتظامیہ میں تصادم
حکومت کی ناقص زرعی پالیسیوں کے باعث ٹریکٹر انڈسٹری بحران کا شکار ، کسان معاشی دباؤ میں پس گئے
کراچی (جے ایچ خان، ہیڈ کامرس اینڈ ٹریڈ ڈیسک ) حکومت کی غیر مؤثر زرعی پالیسی، گندم و دیگر اجناس کی امدادی قیمت میں مسلسل غیر یقینی اور کسانوں کی بگڑتی ہوئی معاشی حالت نے ملکی زرعی شعبے کو شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے، جس کا واضح ثبوت سال 2025ء میں ٹریکٹرز کی فروخت کا گزشتہ 20 برس کی کم ترین سطح پر پہنچ جانا ہے
رپورٹ کے مطابق سال 2025ء کے دوران ملک بھر میں محض 24 ہزار 724 ٹریکٹرز فروخت ہو سکے، جو نہ صرف گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے بلکہ یہ تعداد گزشتہ دو دہائیوں میں ریکارڈ کی گئی کم ترین فروخت بھی قرار دی جا رہی ہے، اعداد و شمار کے مطابق سال 2024ء میں 39 ہزار 480 ٹریکٹرز فروخت ہوئے تھے جبکہ اس سے قبل 2021ء میں فروخت 55 ہزار 546 یونٹس تک جا پہنچی تھی۔ مزید پیچھے جایا جائے تو 2017ء میں ٹریکٹرز کی فروخت 66 ہزار 369 یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، جبکہ 2012ء میں یہ تعداد 64 ہزار 502 تھی
زرعی ماہرین کے مطابق ٹریکٹرز کی فروخت میں اس خطرناک حد تک کمی کی بنیادی وجوہات میں زرعی لاگت میں ہوشربا اضافہ، ڈیزل، کھاد، بیج اور زرعی ادویات کی قیمتوں میں مسلسل مہنگائی، کسان کو بروقت سبسڈی نہ ملنا اور سب سے بڑھ کر حکومت کی جانب سے فصلوں کی امدادی قیمتوں کا واضح اعلان نہ ہونا شامل ہے، تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کسان شدید مالی دباؤ کے باعث نئی زرعی مشینری خریدنے کی سکت کھو چکے ہیں، جبکہ بینکوں کی جانب سے زرعی قرضوں کے حصول میں سخت شرائط نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی پالیسی برقرار رہی تو نہ صرف زرعی پیداوار مزید متاثر ہوگی بلکہ زرعی مشینری سے وابستہ صنعتوں، ہزاروں مزدوروں اور مقامی مینوفیکچررز کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے ، تاہم رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سال 2026ء میں ٹریکٹرز کی فروخت میں تقریباً 20 فیصد بحالی کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق افراطِ زر میں جزوی استحکام، شرح سود میں ممکنہ کمی اور زرعی سرگرمیوں میں بہتری کے باعث آئندہ سال صورتحال میں کچھ بہتری آ سکتی ہے
رپورٹ کے مطابق اگر حکومت نے بروقت کسان دوست پالیسیوں کا اعلان کیا، امدادی قیمتوں کو یقینی بنایا اور زرعی لاگت میں ریلیف فراہم کیا تو نہ صرف ٹریکٹر انڈسٹری بحال ہو سکتی ہے بلکہ ملکی زرعی پیداوار میں بھی نمایاں اضافہ ممکن ہے،بصورت دیگر، ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ زرعی معیشت کی مسلسل زبوں حالی ملکی غذائی تحفظ کیلئے سنگین خطرہ بن سکتی ہے
