July 23, 2026

گوادر میں مزدوروں کی لازمی رجسٹریشن مہم کا آغاز

 گوادر میں مزدوروں کی لازمی رجسٹریشن مہم کا آغاز

رپورٹ ( جاوید سہوانی نمائندہ لیبر نیوز گوادر )

پاک چین اقتصادی راہداری  کے مرکز اور بلوچستان کے ابھرتے ہوئے ساحلی و صنعتی شہر گوادر میں محنت کشوں کے بنیادی حقوق کو قانونی تحفظ دینے اور چائلڈ لیبر بچوں سے مزدوری کے مکمل خاتمے کے لیے ایک وسیع اور منظم رجسٹریشن مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے

ضلعی انتظامیہ، گوادر پورٹ اتھارٹی اور محکمہ محنت لیبر ڈیپارٹمنٹ بلوچستان کے اشتراک سے شروع کی جانے والی اس خصوصی مہم کا بنیادی مقصد گوادر پورٹ، فری زونز، نجی کارخانوں اور مقامی ماہی گیری فشریزکے شعبوں میں کام کرنے والے تمام مقامی و غیر مقامی محنت کشوں کا ایک جامع اور مستند ڈیجیٹل ڈیٹا بیس تیار کرنا ہے، تاکہ انہیں قانون کے مطابق تمام مراعات فراہم کی جا سکیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق اس مہم کے تحت گوادر میں کام کرنے والے ہر مزدور کی لازمی بائیومیٹرک رجسٹریشن کی جا رہی ہے۔

 اس اقدام کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ اب تک غیر دستاویزی شعبے  سے منسلک رہنے والے ہزاروں دیہاڑی دار مزدور اب براہِ راست لیبر قوانین کے دائرہ کار میں آ جائیں گے۔

رجسٹریشن کے عمل کے مکمل ہونے سے محنت کشوں کو درج ذیل بنیادی اور قانونی حقوق تک آسان رسائی حاصل ہو سکے گی

 حکومتِ سندھ اور بلوچستان کے مقرر کردہ قوانین کے مطابق تمام رجسٹرڈ مزدوروں کو حکومت کی طرف سے طے شدہ کم از کم ماہانہ اجرت کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی اور آجرین  کی جانب سے کسی بھی قسم کے استحصال کا سدِباب ہو سکے گا

تمام رجسٹرڈ ورکرز کو سوشل سیکیورٹی کارڈز جاری کیے جائیں گے، جس کے تحت وہ اور ان کے اہل خانہ مفت طبی سہولیات، بچوں کے لیے تعلیمی وظائف اور ریٹائرمنٹ کے بعد پینشن کے حقدار بن سکیں گے

 دورانِ ڈیوٹی کسی بھی ناگہانی حادثے یا معذوری کی صورت میں متاثرہ مزدور یا اس کے لواحقین کو کسٹمز اور مروجہ لیبر قوانین کے تحت بھاری مالی معاوضہ قانوناً ادا کیا جائے گا۔

اس مہم کا دوسرا اور اہم ترین پہلو گوادر اور اس کے مضافاتی علاقوں سے چائلڈ لیبر کا جڑ سے خاتمہ ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ گوادر پورٹ اور اس سے منسلک فری زونز میں بین الاقوامی لیبر معیارات پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا۔

محکمہ محنت کی خصوصی ٹیمیں مختلف صنعتی یونٹس، مچھلی صاف کرنے والے کارخانوں پلپ پروسیسرز ورکشاپس کا اچانک دورہ کر رہی ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی نابالغ بچہ مزدوری نہ کر رہا ہو۔

انتظامیہ کی جانب سے تمام مقامی تاجروں اور بین الاقوامی کمپنیوں کو سخت انتباہ جاری کیا گیا ہے کہ 14 سال سے کم عمر بچوں سے کسی بھی قسم کی مشقت یا مزدوری کروانا سنگین قانونی جرم تصور ہوگا، اور ملوث پائے جانے والے اداروں کے خلاف بھاری جرمانے عائد کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے کاروباری لائسنس بھی منسوخ کیے جا سکتے ہیں۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ گوادر میں مزدوروں کے حقوق کا تحفظ اور بین الاقوامی قوانین کا نفاذ اس لیے بھی ناگزیر ہو چکا ہے کیونکہ یہ شہر اب ایک عالمی تجارتی مرکز بننے جا رہا ہے۔

جب تک یہاں کام کرنے والی افرادی قوت کو محفوظ دائرہ کار، مناسب معاوضہ اور کام کا سازگار ماحول فراہم نہیں کیا جائے گا، تب تک غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

گوادر کی اس تیز رفتار رجسٹریشن مہم کو مقامی مزدور تنظیموں کی جانب سے بھی سراہا جا رہا ہے، تاہم ان کا مؤقف ہے کہ قوانین کی تشکیل کے ساتھ ساتھ اس کے زمینی نفاذ کو بھی ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ دور دراز علاقوں کے غریب محنت کش اس سے حقیقی معنوں میں مستفید ہو سکیں

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp