July 24, 2026

پاکستان اور ایران کے درمیان ٹرانزٹ تجارت کے چھ راستے تاحال غیر فعال

 پاکستان اور ایران کے درمیان ٹرانزٹ تجارت کے چھ راستے تاحال غیر فعال

علی مقدس ( نمائندہ لیبر نیوز ایران )

پاکستانی حکومت کی جانب سے ایران اور اس کے عالمی تجارتی شراکت داروں کے درمیان ملکی بندرگاہوں کے ذریعے ٹرانزٹ تجارت راہداری تجارت کو فروغ دینے کی کوششیں شدید انتظامی و لاجسٹک بحران کا شکار ہو گئی ہیں۔

حکومت کی جانب سے نامزد کیے گئے چھ مخصوص اسٹریٹجک پوائنٹس اور تجارتی راستے تاحال فعال نہیں ہو سکے ہیں، جس کے باعث دیگر ممالک سے پاکستانی بندرگاہوں پر پہنچنے والے ہزاروں کنٹینرز ایران منتقل ہونے کے منتظر ہیں اور اربوں ڈالر کا یہ منصوبہ جمود کا شکار ہے

واضح رہے کہ اپریل 2026 میں وزارتِ تجارت نے ایک خصوصی ایس آر او (SRO) 691(1) 2026 جاری کیا تھا، جسے پاکستان کے ذریعے سامان کی ٹرانزٹ نقل و حرکت آرڈر 2026 کا نام دیا گیا۔ اس قانونی آرڈر کے تحت پاکستان کی سرزمین کو بطور راہداری استعمال کرتے ہوئے بین الاقوامی کارگو کی ترسیل کے لیے درج ذیل چھ راستے مقرر کیے گئے تھے

نوٹیفکیشن کے تحت کارگو کی اس تمام نقل و حمل کو کسٹمز ایکٹ 1969 اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو  کے مقرر کردہ سخت طریقہ کار کے مطابق مانیٹر کیا جانا تھا۔ ٹرانزٹ کے قانون کے مطابق اس سے مراد پاکستان کی سرزمین کے ذریعے سامان کی ایسی نقل و حرکت ہے جس میں پاکستان سے گزرنا کارگو کے کُل سفر کا صرف ایک حصہ ہو، جبکہ سفر کا آغاز اور اختتام پاکستان کی سرحدوں سے باہر ہو

نجی شعبے کے نمائندوں کے مطابق اس تعطل کی سب سے بڑی وجہ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں ایرانی بندرگاہوں اور مینوفیکچرنگ تنصیبات کو پہنچنے والا شدید نقصان ہے۔

 ایرانی بندرگاہوں کی بندش کے باعث بین الاقوامی شپنگ لائنز نے ایرانی سامان سے بھرے ہزاروں کنٹینرز کو سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کراچی اور پورٹ قاسم پر اتار دیا ہے اور خود واپس جا چکی ہیں۔

 اگرچہ یہ نیا ٹرانزٹ انتظام خود حکومتِ ایران کی خصوصی درخواست پر کیا گیا تھا، تاکہ وہ پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے اپنی سپلائی چین بحال رکھ سکے، مگر زمینی راستوں پر کسٹمز کلیئرنس اور لاجسٹک انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں، جس سے یہ کنٹینرز بندرگاہوں پر ہی پھنس کر رہ گئے ہیں

دوسری جانب پاکستان کی جانب سے ایران کے ذریعے وسطی ایشیائی ریاستوں کو کی جانے والی برآمدات گزشتہ چھ ماہ سے کامیابی سے جاری ہیں۔

مارچ 2026 میں حکومتِ پاکستان نے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ایران کو جنگی اثرات سے نمٹنے کے لیے خوراک اور ادویات سمیت غیر پابندی شدہ اور غیر ممنوعہ اشیاء برآمد کرنے کی تین ماہ کی خصوصی اجازت دی تھی۔ کسٹمز ذرائع کے مطابق، اس برآمدی سامان کا ڈیٹا باقاعدگی سے موصول ہو رہا ہے، تاہم اس کے حتمی معاشی اثرات کا جائزہ تین ماہ کی مدت پوری ہونے کے بعد لیا جائے گا

یہ پیش رفت اس لحاظ سے تاریخی ہے کہ رسمی تجارتی ذرائع سے پاکستان کی ایران کو برآمدات سال 1999 کے بعد بین الاقوامی پابندیوں کے باعث کم ہوتے ہوتے سرکاری دستاویزات میں تقریباً صفر ہو چکی تھیں اور زیادہ تر تجارت اسمگلنگ کے ذریعے ہو رہی تھی۔ کئی دہائیوں بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پاک-ایران تجارت ایف بی آر کے سرکاری تجارتی اعداد و شمار میں ظاہر ہونا شروع ہوگی

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp