اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
نوجوان محنت کش اب خود مختار بینک اکاؤنٹس کھول سکیں گے
کراچی( لیبر نیوز کامرس اینڈ ٹریڈ ڈیسک ) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک کے 26 ملین نوجوانوں، بالخصوص نوجوان محنت کشوں کو مالی طور پر بااختیار بنانے کے لیے ایک انقلابی فریم ورک کا آغاز کر دیا ہے۔
نئے قانون کے تحت 13 سے 18 سال کی عمر کے نوجوان اب والدین پر انحصار کیے بغیر اپنے نام پر ڈیجیٹل والٹس اور بینک اکاؤنٹس خود چلا سکیں گے اس اقدام کا مقصد چھوٹی عمر سے ہی بچت کی عادت ڈالنا اور نوجوانوں کو ملکی معیشت کا فعال حصہ بنانا ہے
مرکزی بینک کے مطابق یہ فریم ورک ان نوجوان محنت کشوں کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا جو کارخانوں یا دیگر شعبوں میں کام کر کے اپنی روزی کماتے ہیں کیونکہ اب وہ اپنی اجرت محفوظ طریقے سے اپنے اکاؤنٹ میں وصول کر سکیں گے
اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ یہ منصوبہ نیشنل فنانشل انکلوژن اسٹریٹیجی کا حصہ ہے جس کا مقصد مالیاتی نظام میں موجود خلا کو پُر کرنا اور نوجوان نسل کو ڈیجیٹل مہارتوں سے لیس کرنا ہے
اس تاریخی پیش رفت سے نہ صرف مالیاتی شمولیت بڑھے گی بلکہ نوجوانوں میں معاشی خود مختاری کا احساس بھی پیدا ہوگا
