June 1, 2026

خواتین زیادہ محنت کے باوجود کم اجرت پر مجبور، عالمی رپورٹ

 خواتین زیادہ محنت کے باوجود کم اجرت پر مجبور، عالمی رپورٹ

رپورٹ ( سارہ جونسن )

اقوام متحدہ کے ادارے یو این ویمن کی رپوڑٹ کے مطابق محنت کش خواتین عدم مساوات عہد کے سب سے گہرے اور جڑ پکڑ چکے مسائل میں سے ایک ہے، جو عالمی معیشت کی ایک مستقل اور نمایاں خصوصیت بن چکا ہے رواں برس جاری ہونے والی ورلڈ انیکوالٹی رپورٹ کے اعداد و شمار پر ردعمل دیتے ہوئے کہی گئی، جس میں صنفی عدم مساوات کو عالمی اقتصادی نظام کا ایک “تعریف کرنے والا اور مسلسل موجود پہلو قرار دیا گیا ہے

رپورٹ کے مطابق خواتین مردوں کے مقابلے میں نہ صرف زیادہ گھنٹے کام کرتی ہیں بلکہ انہیں اجرت کے حوالے سے شدید ناانصافی کا سامنا ہے۔ جب تنخواہ دار اور بغیر معاوضہ کام، جیسے گھریلو ذمہ داریاں، بچوں کی دیکھ بھال اور بزرگوں کی خدمت کو شامل کیا جائے تو خواتین کی فی گھنٹہ آمدن مردوں کے مقابلے میں محض 32 فیصد بنتی ہے

حتیٰ کہ اگر گھریلو اور بغیر اجرت کام کو نکال بھی دیا جائے تب بھی خواتین مردوں کی آمدن کا صرف 61 فیصد کماتی ہیں اعداد و شمار کے مطابق 15 سے 64 سال کی عمر کی خواتین مردوں کے مقابلے میں ہفتہ وار اوسطاً 10 گھنٹے زیادہ کام کرتی ہیں، تاہم اس کے باوجود 2025 میں عالمی آمدن میں خواتین کا حصہ صرف 28 فیصد رہا، جو گزشتہ 35 برسوں میں تقریباً تبدیل نہیں ہو سکا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ صورتحال نہ صرف معاشی ناانصافی کی عکاسی کرتی ہے بلکہ پالیسی سازی، لیبر قوانین اور سوشل سیکیورٹی نظام کی ناکامی کو بھی بے نقاب کرتی ہے

یو این ویمن اور دیگر عالمی اداروں نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ خواتین کے لیے مساوی اجرت، سوشل سیکیورٹی، کام اور گھریلو زندگی میں توازن اور محفوظ روزگار کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں، تاکہ عالمی معیشت کو انصاف پر مبنی بنایا جا سکے

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp