ہندوستان میں خواتین کے لیے روزگار اور کام کی دنیا تیزی سے ایک نئی شکل اختیار کر رہی ہے
نئی دہلی ( رپورٹ : ابو دانش رحمان ) ہندوستان میں خواتین کے لیے روزگار اور کام کی دنیا تیزی سے ایک نئی شکل اختیار کر رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے نافذ کردہ نئے لیبر کوڈزجو 21 نومبر 2025 سے مؤثر ہوچکے ہیں۔ملک کی لیبر پالیسی کو محض ’کمپلائنس‘ سے اٹھا کر ’ایمپاورمنٹ‘ کے مرحلے تک لے جا رہے ہیں۔ یہ اصلاحات اس بدلتی سوچ کے عین مطابق ہیں، جس میں خواتین روزگار کو صرف آمدنی کا ذریعہ نہیں بلکہ خود اعتمادی، ترقی، تحفظ اور قیادت کا راستہ سمجھتی ہیں۔
نئے لیبر کوڈز میں اجرت، صنعتی تعلقات، سماجی تحفظ اور پیشہ ورانہ سلامتی کے پہلوؤں کو جدید اور صنفی حساسیت کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔ یہ ورک پلیس کو زیادہ محفوظ، زیادہ مساوی اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق بنانے کی سمت میں ایک مضبوط قدم ہے۔ ان اقدامات کی پشت پر NAVYA پروگرام، شْرم شکتی نیتی 2025، اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب اور خواتین کیلئے خصوصی ڈیجیٹل لٹریسی مشن جیسے پروگرام بھی موجود ہیں، جو خواتین کو محض مستفید ہونے والا طبقہ نہیں ،بلکہ قومی معاشی ترقی کی فعال شراکت دار کے طور پر دیکھتے ہیں۔
مراعاتِ زچگی اور چائلڈ کیئر سپورٹ
مراعات زچگی کے معاملے میں ہندوستان پہلے ہی ایک مضبوط آئینی روایت رکھتا ہے، لیکن سوشل سیکورٹی کوڈ 2020 نے اسے زیادہ جامع بنا دیا ہے۔ اب گود لینے والی اور “کمیشننگ مائیں” بھی 12 ہفتوں کی چھٹی کی حقدار ہیں۔ ورک فرام ہوم کو قانونی شکل دی گئی ہے اور کُرَیش (crèche) کی قومی سطح پر لازمی گائیڈ لائنز متعارف کرائی گئی ہیں۔ گیگ اور پلیٹ فارم ورکرز کو بھی سوشل سیکورٹی کے دائرے میں لایا گیا ہے، جوموجودہ دور کے بدلتے روزگار ماڈلز کیلئے اہم قدم ہے۔
رات کی شفٹ میں محفوظ روزگار
ماضی میں خواتین کو رات کی شفٹ میں کام کرنے سے روکا جاتا تھا، جس کی وجہ تحفظات اور سماجی عوامل تھے۔ اس سے خواتین کئی ایسے سیکٹرز سے باہر رہ جاتی تھیں ،جو 24 گھنٹے کام کرتے ہیں۔ جیسے آئی ٹی، صحت، مینوفیکچرنگ، اور ہوٹل انڈسٹری۔ اب نئے کوڈز کے تحت خواتین کو رات کی شفٹ میں کام کی اجازت کے ساتھ مضبوط حفاظتی معیارات لازمی کیے گئے ہیں، تاکہ ان کے مواقع بڑھے لیکن حفاظت بھی برقرار رہے۔
برابر تنخواہ اور مساوی مواقع
ورلڈ اکنامک فورم کی جینڈر گیپ رپورٹ 2024 کے مطابق بھارت 146 میں سے 129ویں نمبر پر ہے، جو اجرت اور مواقع کی عدم مساوات کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس تناظر میں کوڈ آن ویجز 2019 خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ قانون واضح طور پر یکساں کام کے لیے یکساں اجرت کو یقینی بناتا ہے اور تقرری، اجرت اور ملازمت کے دیگر مراحل میں صنفی امتیاز کی سختی سے ممانعت کرتا ہے۔ یکساں تعریف اجرت متعارف کرانے سے تنخواہوں میں پوشیدہ فرق ختم ہوگا، جب کہ کمپنیوں کو تنخواہ آڈٹ اور جینڈر نیوٹرل بھرتی کے نظام اپنانے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔
نمائندگی اور قیادت میں اضافہ
انڈسٹریل ریلیشنز کوڈ 2020 شکایتی کمیٹیوں میں خواتین کی مساوی نمائندگی لازمی کرتا ہے۔ خواتین کی ٹریڈ یونینوں اور مشاورتی اداروں میں شمولیت کی بھی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے، تاکہ فیصلہ سازی میں صنفی تنوع شامل ہو اور قیادت کے زیادہ مواقع پیدا ہوں۔
گیگ اکانومی کی خواتین کیلئے نئی راہیں
گیگ اور پلیٹ فارم ورکرز کو قانونی شناخت دینا ایک بڑا قدم ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ہزاروں خواتین فری لانسنگ، آن لائن سروسز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے لچکدار روزگار حاصل کر رہی ہیں۔ اب یہ ورک فورس بھی سماجی تحفظ اور حقوق کے دائرے میں آ جاتی ہے۔
آگے کا راستہ
خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت بڑھانے کے لیے قانونی اصلاحات کے ساتھ ساتھ ذہنی، سماجی اور ادارہ جاتی تبدیلیاں بھی ناگزیر ہیں۔ شْرم شکتی نیتی 2025 اس سمت میں جامع روڈ میپ فراہم کرتی ہے، جبکہ نئے لیبر کوڈز نے برابری، تحفظ، سوشل سیکورٹی اور نمائندگی کو مرکزی مقام دے کر ایک مضبوط بنیاد رکھ دی ہے۔ یہ اصلاحات ہندوستان کی ورک فورس میں خواتین کو محض محفوظ نہیں، بلکہ بااختیار بنانے کی جانب غیر معمولی پیش رفت ہیں۔جس کا اثر نہ صرف ورک پلیس بلکہ پورے معاشی ڈھانچے پر نمایاں ہوگا۔
۔
