June 1, 2026

ستمبر مزدور رہنما عثمان غنی کا مہینہ

  ستمبر مزدور رہنما عثمان غنی کا مہینہ
تحریر ( محمد کامران ، کراچی ) 

ان کی زندگی کے کم از کم تین پہلو نہایت اہم ہیں، وہ ملک کے ایک اہم اور بڑے مزدور رہنما تھے۔ انھوں نے پوری زندگی مزدوروں کے حقوق کی جدوجہد میں گزاری، وہ پی پی پی کے انتہائی جانثار رہنماؤں میں شمار کیے جاتے تھے جن کو شہید بینظیر بھٹو کی قربت اور شفقت کا اعزاز بھی حاصل تھا۔

یہ بتانا ضروری ہے کہ پیپلز لیبر بیورو کی تنظیم قائم کرنے کے لیے شہید بینظیر بھٹو کو قائل کرنے میں بنیادی کردار بھی شہید عثمان غنی ہی کا تھا۔ وہ ایک سماجی کارکن بھی تھے اور اپنے رہائشی علاقہ میں ہمیشہ غریب عوام کے درمیان رہتے تھے، یہی وجہ ہے کہ آج بھی چنیسر گوٹھ کی عوام انھیں نمناک آنکھوں کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔

اس عظیم مزدور رہنما کو سفاک قاتلوں نے گولیوں کی بوچھاڑ کر کے 17 ستمبر 1995 کے منحوس دن جب وہ اپنی رہائش گاہ سے دفتر جانے کے لیے نکلے ہی تھے کہ قریبی پل پر انھیں گھات لگا کر شہید کر دیا۔

عثمان غنی کے قاتلوں اور ان کے پشت پناہوں کو یہ گمان رہا ہو گا کہ انھوں نے ایک شمع کو گل کر دیا ہے جبکہ وہ یہ بھول گئے کہ ہمیشہ ایک شمع کی لو سے دوسری شمع روشن ہوتی ہے۔

عثمان تو اپنی جدوجہد سے بھری زندگی گزار کر سفر آخرت پر روانہ ہو گئے لیکن ان کے ہونہار فرزند سعید غنی نے اپنے عظیم والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسی کانٹوں بھرے سیاست کے راستے کا انتخاب کیا جو انھیں اپنے شہید والد سے ورثہ میں ملا تھا۔

سندھ دھرتی اور مزدور تحریک کا یہ لافانی کردار کراچی کے قدیم علاقہ چنیسر گوٹھ میں پیدا ہوا اور مرتے دم تک اس نے اپنے آبائی علاقہ میں رہائش کو نہیں چھوڑا۔

نو جوان عثمان غنی نے اپنی عملی زندگی کا آغاز بینک کی ملازمت سے کیا، اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے علاقہ میں سیاسی طور پر پی پی پی سے بھی منسلک رہے۔

بینک میں انھوں نے ٹریڈ یونین تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا شروع کیا اور جلد ہی وہ ملازمین کے حقوق کے چیمپین کے طور پر ابھرے اور انھیں سی بی اے یونین کے صدر کے طور پر منتخب کر لیا گیا۔

عثمان غنی نے اس کامیابی کے بعد کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، وہ آگے ہی بڑھتے رہے، وہ اپنے ادارہ کی ٹریڈ یونین فیڈریشن کے مرکزی رہنما بھی منتخب ہوئے۔ انھیں پاکستان بینکس امپلائز فیڈریشن کا مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل منتخب کر لیا گیا اور یوں انتہائی تیز رفتاری مگر استقامت کے ساتھ وہ پاکستان کی مزدور تحریک کے کارواں میں شامل اور آگے بڑھتے رہے۔

انہوں نے بینک ملازمین کے حقوق کے حصول اور ان کے روزگار کے تحفظ کے لیے بے مثال جدوجہد کی اور قربانیاں دیں۔ اس ضمن میں انھیں متعدد مرتبہ قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔

ان کی پہلی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی کہ جب وہ بینک کے ہیڈ آفس کے مرکزی ہال میں ایک احتجاجی جلسہ سے خطاب کر رہے تھے۔ پولیس نے اس اجتماع پر دھاوا بول دیا اور لاٹھی چارج کرتے ہوئے عثمان غنی کو گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا، یہ گرفتاری ان کی قربانیوں کا آغاز تھی، اس کے بعد یہ سلسلہ ان کی زندگی کے آخری چند سالوں کے دوران بھی جاری رہا

اس مزدور رہنما کی آخری گرفتاری اوائل 1991 میں نواز شریف کے دور حکومت میں عمل میں لائی گئی کہ جب پاکستان کی تمام متحرک سیکڑوں مزدور تنظیموں نے اے پی ایس ای ڈبلیو اے سی کے نام سے پرائیویٹائیزیشن کے خلاف ایک ملکی گیر اتحاد قائم کیا اور پاکستان کے تقریباً تمام صنعتی اور تجارتی اداروں کے ملازمین نے ایک دن کی علامتی مگر مکمل ہڑتال کی۔

اس ہڑتال کی پاداش میں شہید عثمان غنی کو ان کے دفتر سے گرفتار کر لیا گیا جبکہ راقم الحروف کو ان کی گرفتاری کے دو یا تین دن کے بعد میکلوڈ روڈ سے اس جلسے سے گرفتار کیا گیا جو عثمان غنی کی گرفتاری کے خلاف تمام بینکس ملازمین نے مشترکہ طور پر منعقد کیا تھا،

ہمیں کراچی سینٹرل جیل منتقل کر دیا گیا اور ہماری رہائی اس وقت عمل میں آئی جب نواز شریف حکومت نے اس بینک کو فروخت کر دیا جہاں عثمان غنی ملازم تھے۔

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp