اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
عالمی نوجوان مزدور رہنماؤں کا لیبر ایجوکیشن مہم کا اعلان
رپورٹ ، نوید احمد
جنوب مشرقی ایشیا سے تعلق رکھنے والے نوجوان ٹریڈ یونین رہنماؤں نے خطے میں محنت کشوں کے حقوق کو بیدار کرنے اور نوجوان نسل کو اپنے جمہوری و قانونی حقوق سے روشناس کرانے کے لیے ایک وسیع اور جدید لیبر ایجوکیشن مزدور تعلیم مہم شروع کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے
اس جرات مندانہ منصوبے کے تحت روایتی طریقوں کے بجائے ٹک ٹاک اور انسٹاگرام جیسے مقبول ترین سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کیا جائے گا، تاکہ فیکٹریوں، دفاتر اور سپلائی چینز میں کام کرنے والے نوجوانوں تک براہِ راست رسائی حاصل کی جا سکے
اس مہم کے بنیادی ایجنڈے میں ٹریڈ یونین کی اہمیت، مزدوروں کے بنیادی حقوق، تنخواہیں اور مراعات، آئی ایل او کا کنونشن 190 جو کام کی جگہ پر ہراساں کیے جانے اور تشدد کے خلاف تحفظ فراہم کرتا ہے اور کام کے دوران صحت و حفاظت جیسے انتہائی اہم موضوعات شامل ہیں
حال ہی میں تشکیل پانے والی ایشیا پیسیفک ریجنل یوتھ کمیٹی کی شریک چیئرپرسن جین فے ڈاگومین نے منصوبے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہم خطے میں موجود تمام انڈسٹری آل کی الحاق شدہ تنظیموں اور سینیئر لیڈروں سے بات چیت کر رہے ہیں تاکہ ان کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے لیبر ایجوکیشن پر مبنی مختصر اور معلوماتی ویڈیوز کو بڑے پیمانے پر شیئر کیا جا سکے
ہمارا ہدف ہے کہ اگلے چھ ماہ کے اندر 7 مختلف ممالک کے کم از کم 4 ہزار نوجوان مزدوروں تک یہ پیغام پہنچایا جائے اور ان میں سے 700 سے زائد نوجوانوں کو باقاعدہ طور پر یونین کا حصہ بنایا جائے۔”
یہ انقلابی تجویز فلپائن کے علاقے ریزال میں منعقدہ تیسری ‘انڈسٹری آل-ایف ای ایس ساؤتھ ایسٹ ایشیا یوتھ اکیڈمی کے چار روزہ اجلاس کے دوران سامنے آئی
اس اکیڈمی میں کمبوڈیا، انڈونیشیا، جاپان، ملائیشیا، فلپائن، تھائی لینڈ اور ویتنام سے تعلق رکھنے والے بیس سے زائد نوجوان یونین نمائندوں نے شرکت کی
اجلاس میں شرکاء نے متفقہ طور پر اس بات کی نشاندہی کی کہ موجودہ دور میں نوجوان مزدوروں کے لیے سب سے بڑا چیلنج لیبر ایجوکیشن اور متعلقہ حکومتی پالیسیوں کا نہ ہونا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت مارکیٹ میں آنے والے زیادہ تر نوجوان مزدور اپنے بنیادی قانونی حقوق اور تحفظات سے بالکل لاعلم ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پبلک ایجوکیشن یعنی سرکاری تعلیمی نصاب میں نوجوانوں کو اسکول یا کالج چھوڑنے کے بعد عملی زندگی اور روزگار کی منڈی میں داخل ہوتے وقت درکار بنیادی لیبر قوانین کے بارے میں کچھ نہیں سکھایا جاتا
تعلیمی اداروں کی اس بڑی خامی کو دور کرنے کے لیے پاپولر لیبر ایجوکیشن (عوامی مزدور تعلیم) ہی وہ واحد راستہ ہے جو نوجوانوں کے دل و دماغ جیت سکتا ہے اور انہیں یونینز کی طرف راغب کر سکتا ہے۔
چار روز تک جاری رہنے والی اس ورکشاپ کے دوران، مختلف ممالک سے آئے ہوئے ان نوجوانوں نے کام کی جگہوں کی میپنگ، یونین کی طاقت بڑھانے
مزدوروں کے ساتھ ون ٹو ون گفتگو کرنے اور ڈیجیٹل ٹولز کے ذریعے نوجوان طبقے تک رسائی حاصل کرنے کی بھرپور تربیت حاصل کی۔ سال 2025ء کے گلوبل سپلائی چین ماڈیول کو آگے بڑھاتے ہوئے، انہوں نے عالمی کارپوریٹ سپلائی چینز میں معیاری روزگار کے تصور کو مزید گہرائی سے سمجھا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ جب تک بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی نہیں ہوگا، تب تک منصفانہ اجرت اور کام کے اچھے حالات کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔
اجلاس کے دوران سینیئر اور جونیئر یونین رہنماؤں کے درمیان تنظیمی خلیج اور اختلافات پر بھی کھل کر بات چیت ہوئی نوجوان رہنماؤں نے سینیئر قیادت کے تجربے اور علم کا اعتراف کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انہیں بھی تنظیمی فیصلوں میں شامل کیا جائے ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے مواقع دیے جائیں اور نوجوانوں کی ترقی کے لیے الگ سے مناسب فنڈز مختص کیے جائیں۔
انڈسٹری آل کی یوتھ اینڈ پراجیکٹ آفیسر سارہ فلورس نے اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا تنوع ہماری سب سے بڑی طاقت ہے، لیکن اگر یہ طاقت صرف یونینز کے ہیڈ آفسز اور بورڈ رومز تک محدود رہی تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
جب مختلف ممالک کے نوجوان مل کر کوئی فیصلہ کرتے ہیں، تو ان کا اصل مشن یہ ہونا چاہیے کہ وہ اس نظریے کو فیکٹری فلور تک لے جائیں اور مزدوروں کو وہیں منظم کریں جہاں وہ موجود ہیں
ہمارا مقصد بالکل واضح ہے ہمیں عوامی متحرک سازی اور مضبوط تنظیم سازی کے ذریعے ایک ایسا مستقبل بنانا ہے جہاں کارپوریٹ منافع کے بجائے انسانوں اور ان کے حقوق کو اولیت حاصل ہو
