اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
ایک تہائی مزدور کی اجرتوں میں 40 فیصد سے زائد کمی کا انکشاف، آئی ایل او کی تشویشناک رپورٹ
رپورٹ ، فیصل شہزاد
انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی جانب سے جاری کردہ ایک نئی اور جامع رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ لبنان میں حالیہ معاشی اور عسکری کشیدگی کے نتیجے میں نجی شعبے کے ملازمین اور محنت کشوں کا روزگار شدید متاثر ہوا ہے
رپورٹ کے مطابق سروے میں شامل ہر تین میں سے ایک ملازم اب ملازمت سے محروم ہو چکا ہے، جبکہ ملازمتوں کے خاتمے اور تنخواہوں میں کٹوتیوں کے مجموعی اثرات کے باعث مزدوروں کی اوسط آمدنی میں 40.4 فیصد کی خطیر کمی ریکارڈ کی گئی ہے
لبنان کی لیبر مارکیٹ بحران میں تجدید شدہ تنازع اور علاقائی عدم استحکام کے اثرات کا جائزہ کے عنوان سے تیار کی گئی یہ رپورٹ نجی شعبے کے کارکنوں پر مرکوز ہے۔
مئی 2026 میں جنرل کنفیڈریشن آف لیبنیز ورکرز اور فیڈریشن آف ایمپلائز اینڈ ورکرز یونینزکے اشتراک سے کیے گئے اس سروے میں نجی شعبے کے 2,485 ایسے ملازمین اور خود روزگار افراد کو شامل کیا گیا جو مارچ 2026 میں تنازع کے دوبارہ آغاز سے قبل برسرِروزگار تھے
سروے کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ 33.0 فیصد محنت کش اب کام نہیں کر رہے، جن میں 28.2 فیصد مکمل بے روزگار ہو چکے ہیں جبکہ 4.7 فیصد لیبر فورس سے ہی باہر نکل گئے ہیں
سب سے زیادہ نقصانات جنوبی لبنان کے اضلاع میں دیکھے گئے جہاں جنگی صورتحال براہِ راست اثرانداز ہوئی۔ نبطیہ گورنریٹ میں بے روزگاری کی شرح 76.5 فیصد جبکہ جنوبی لبنان کی گورنریٹ میں 43.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے
تاہم اس بحران کے اثرات صرف فرنٹ لائن تک محدود نہیں رہے بلکہ مارکیٹ میں مندی، کاروباری سرگرمیوں میں کمی، مہنگائی کے دباؤ اور سپلائی چین میں تعطل کی وجہ سے دیگر اضلاع کے کارکن بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔
اس بحران میں بڑے پیمانے پر ہونے والی نقل مکانی ملازمتوں کے چھن جانے کی ایک بڑی وجہ بن کر سامنے آئی ہے۔ سروے کے وقت 37.4 فیصد افراد اب بھی بے گھر تھے جبکہ 14.2 فیصد ایسے تھے جو تنازع کے دوران بے گھر ہوئے لیکن بعد میں اپنے گھروں کو لوٹ آئے رپورٹ کے مطابق جو لوگ تاحال بے گھر ہیں ان میں سے دو تہائی سے زائد افراد مکمل طور پر بے روزگار بیٹھے ہیں
آئی ایل او کی ریجنل ڈائریکٹر برائے عرب ممالک، ربا جرادات نے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کا موجودہ بحران نہ صرف عمارتوں اور انفراسٹرکچر کو تباہ کر رہا ہے بلکہ لوگوں کے روزگار، آمدنی اور زندگی کی نازک بنیادوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے
انہوں نے زور دیا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی جانے والی امداد زندگیاں بچاتی ہے، لیکن باوقار کام اور سماجی تحفظ لوگوں کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں مدد دیتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس بحران نے ان طبقات کو زیادہ نشانہ بنایا جو پہلے ہی معاشرے میں کمزور پوزیشن پر تھے۔ معذور افراد میں بے روزگاری کی شرح سب سے زیادہ 71.4 فیصد دیکھی گئی، جبکہ خواتین میں 44.3 فیصد، 15 سے 24 سال کے نوجوانوں میں 42.4 فیصد، شام کے مہاجرین میں 39.4 فیصد اور غیر رسمی ملازمتیں کرنے والوں میں یہ شرح 37.7 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ تحریری معاہدے کے بغیر کام کرنے والے اور چھوٹے اداروں کے ملازمین زیادہ متاثر ہوئے
جو مزدور اب بھی ملازمتوں پر برقرار ہیں ان کی اوسط آمدنی میں 14.8 فیصد کمی آئی ہے۔ مجموعی آبادی کے لحاظ سے آمدنی کا گرتا ہوا گراف 40.4 فیصد تک پہنچ چکا ہے
جن لوگوں نے نئی ملازمتیں حاصل کیں، انہیں انتہائی خراب حالات کا سامنا کرنا پڑا جہاں وہ پہلے کے مقابلے میں 30.7 فیصد کم کما رہے ہیں اور ان میں سے اکثریت غیر رسمی یا عارضی کاموں کی طرف راغب ہونے پر مجبور ہوئی ہے۔
مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے لبنانی، شامی اور فلسطینی خاندانوں نے اپنی جمع پونجی کا استعمال کیا ہے، جبکہ 40 فیصد سے زائد افراد نے اپنے قرضوں اور بلوں کی ادائیگیوں کو مؤخر کر دیا ہے
بہت سے خاندانوں نے خوراک کے اخراجات میں کٹوتی کی ہے، جس سے غذائی تحفظ کے سنگین مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ تقریباً 45.5 فیصد جواب دہندگان نے مستحکم روزگار کی تلاش کو اپنی اولین ضرورت قرار دیا ہے۔
عالمی ادارے نے سفارش کی ہے کہ فوری طور پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے والے بحالی کے پروگرام شروع کیے جائیں، خواتین اور معذور افراد کو ہنگامی مدد فراہم کی جائے، اور چھوٹے کاروباری اداروں کو ویج سبسڈیز دی جائیں۔
طویل مدتی حل کے لیے نیشنل ایمپلائمنٹ پالیسی کی تشکیل، نیشنل ایمپلائمنٹ آفس کو فعال کرنے اور غیر رسمی شعبے کو قانونی دائرے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ یورپی یونین اور نیدرلینڈز حکومت کے مالیاتی تعاون سے تیار کی گئی ہے
