اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
پاکستان کی لیبر مارکیٹ کے لیے بڑے خطرات کی گھنٹی
رپورٹ ، طیبہ تاثیر
انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی جانب سے جاری کی گئی ایک نئی بریف رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کی لیبر مارکیٹ مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ بحران کے بالواسطہ اثرات اسپل اوور ایفیکٹس کی شدید زد میں ہے
رپورٹ کے مطابق، یہ بحران توانائی اور کھاد کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، مزدوروں کی بیرونی ہجرت، ترسیلاتِ زر رقم کی منتقلی اور سرحدی رکاوٹوں کی وجہ سے ملک کے اندر ملازمتوں اور عام آدمی کے روزگار کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے
اس تشویشناک صورتحال کے پیشِ نظر لیبر مارکیٹ کی پالیسیوں پر مرتب ہونے والے اثرات کا تفصیلی جائزہ لینا اور ان میں اصلاحات کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
ملکی سطح پر لگائے گئے خطرے کے تخمینے ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کی لیبر مارکیٹ اس بحران سے بڑے پیمانے پر متاثر ہو رہی ہے۔ ملک کے 81 فیصد سے زائد مزدور ایسے معاشی کاموں اور شعبوں سے وابستہ ہیں جہاں اس بحران کے درمیانے یا انتہائی زیادہ اثرات پڑنے کا براہِ راست خطرہ موجود ہے،
جبکہ اس کے برعکس عالمی سطح پر یہ اوسط شرح 66 فیصد ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ غیر رسمی انفارمل اور کم و درمیانی مہارت رکھنے والے ورکرز، رسمی (فارمل) اور اعلیٰ مہارت یافتہ ملازمین کے مقابلے میں اس معاشی خطرے کی زد میں سب سے زیادہ ہیں۔
پاکستان کا زرعی شعبہ، جو ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، ایندھن اور کھاد کی اونچی لاگت کے باعث شدید خطرات سے دوچار ہے
بین الاقوامی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے اگر پیداواری لاگت میں طویل مدتی اضافہ برقرار رہا یا کھاد کی قلت پیدا ہوئی، تو اس کے نتیجے میں ملک بھر میں خوراک کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائیں گی۔ یہ صورتحال دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع کو شدید متاثر کرے گی، جس کا سب سے بڑا خمیازہ غریب اور کمزور کسان خاندانوں کو بھگتنا پڑے گا۔
پاکستانی مزدوروں کے لیے بیرونِ ملک، بالخصوص خلیجی ممالک روزگار کا ایک بڑا اور اہم ذریعہ ہیں۔ پاکستان ہر سال سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں لاکھوں ورکرز بھیجتا ہے، تاہم اب ابتدائی شواہد سے یہ معلوم ہو رہا ہے کہ خلیج کی طرف جانے والے مهاجر مزدوروں کی تعداد میں نمایاں کمی آنا شروع ہو گئی ہے
اگرچہ تارکینِ وطن کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر شروع میں سست ہونے کے بعد حال ہی میں دوبارہ کچھ بحال ہوئی ہے، جو ان کی لچک کو ظاہر کرتی ہے
لیکن بیرونِ ملک نئی بھرتیوں میں مسلسل ہچکچاہٹ اور کمزوری مستقبل میں ترسیلاتِ زر کی نمو کو مستقل طور پر روک سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستانی خاندانوں کی قوتِ خرید متاثر ہوگی اور مقامی معیشت و لیبر مارکیٹ پر دباؤ مزید بڑھ جائے گا۔
