July 23, 2026

پرزہ سازی کی صنعت ڈوبنے کا خدشہ

 پرزہ سازی کی صنعت ڈوبنے کا خدشہ

رپورٹ : حسن خان ، ہیڈ لیبر نیوز کامرس اینڈ ٹریڈ ڈیسک

حکومتِ پاکستان کی جانب سے حال ہی میں پیش کیے گئے وفاقی بجٹ نے ملکی آٹو موبائل صنعت خصوصاً آٹو پارٹس تیار کرنے والے مقامی اداروں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے

آٹو ماہرین اور تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ بجٹ میں درآمدی گاڑیوں پر ڈیوٹیوں کی کمی جیسے اقدامات ملکی مینوفیکچرنگ سیکٹر کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں، جس سے پاکستان ایک بار پھر مستقل طور پر محض ایک ‘اسمبلنگ انڈسٹری’ بن کر رہ جائے گا۔

پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹو پارٹس اینڈ اسیسریز مینوفیکچررز  کے سینئر وائس چیئرمین اور آٹو تجزیہ کار شہریار قادر نے بجٹ پالیسی کو یکسر مایوس کن قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملکی معیشت کی مضبوطی اور مقامی صنعت کے فروغ کے حکومتی دعوے زمینی اقدامات سے مطابقت نہیں رکھتے۔

شہریار قادر کے مطابق مقامی آٹو پارٹس کی صنعت پہلے ہی مہنگی بجلی و گیس، بلند شرحِ سود، بھاری ٹیکسوں اور فریٹ اخراجات کی وجہ سے بین الاقوامی مارکیٹ کے مقابلے میں 34 فیصد لاگتی نقصان برداشت کر رہی ہے

ان ساختی رکاوٹوں کو دور کرنے کے بجائے حکومت نے فنانس بل میں مکمل تیار شدہ درآمدی گاڑیوں  اور آٹو پارٹس پر امپورٹ ڈیوٹی کم کرنے کی تجویز دی ہے، جو مقامی وینڈرز کی کمر توڑ دے گی

انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام سے بڑی کارساز کمپنیوں  کو تو فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ وہ پرزے بنانے کے بجائے مکمل ناک ڈاؤن کٹس یا تیار گاڑیاں منگوا کر محض ‘اسکرو ڈرائیور اسمبلنگ’ کی طرف منتقل ہو جائیں گی۔

 اس پالیسی کا خمیازہ ملک کی 1,200 آٹو پارٹس بنانے والی چھوٹی کمپنیوں کو بھگتنا پڑے گا، جبکہ پاکستان میں موٹرسائیکلوں اور ٹریکٹرز میں 90 فیصد اور روایتی گاڑیوں میں 65 فیصد تک حاصل کی جانے والی لوکلائزیشن کا عمل ریورس ہو جائے گا

دوسری جانب، بین الاقوامی تجارت کے ماہر اور آٹو تجزیہ کار عادل نکھودہ کا خیال ہے کہ یہ اقدامات قومی ٹیرف پالیسی 2025-30 کے تحت طویل عرصے سے زیرِ التوا اصلاحات کا حصہ ہیں

۔ بجٹ میں چھوٹے ماڈلز کی درآمدی گاڑیوں پر ڈیوٹی کم کی گئی ہے تاکہ مارکیٹ میں مسابقت بڑھے اور خریداروں کو کم قیمت پر گاڑیاں دستیاب ہو سکیں۔

تاہم، ان کا کہنا تھا کہ بڑی انجن گنجائش والی گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی برقرار ہے، جبکہ دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کی لگژری الیکٹرک گاڑیوں  پر نئی وفاقی ایکسائز ڈیوٹی  عائد کی گئی ہے۔

عادل نکھودہ نے اس بات کی نشاندہی کی کہ کسٹمز ڈیوٹی میں کمی کا اثر بڑی گاڑیوں پر عائد 86 سے 92 فیصد خصوصی ایکسائز ڈیوٹی سے زائل ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدات کے خلاف موجود تعصب اور اسمبلرز کے لیے غیر منصفانہ تحفظ بدستور برقرار ہے۔

آٹو ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ صوابدیدی ایس آر اوز  کے بجائے ایک پیش گوئی کے قابل اور قواعد پر مبنی نظام متعارف کرائے تاکہ سرمایہ کار طویل مدتی منصوبہ بندی کر سکیں

عادل نکھودہ نے تجویز دی کہ پالیسی میں واضح سن سیٹ کلاز شامل ہونی چاہیے تاکہ صنعتوں کو حقیقی مسابقت کا سامنا کرنا پڑے۔ مزید برآں، الیکٹرک گاڑیوں اور لوکلائزیشن کے لیے دی جانے والی کسی بھی رعایت کو اسمبلنگ کے حجم کے بجائے کمپنی کی برآمدی کارکردگی اور ویلیو ایڈیشن سے مشروط کیا جائے۔ انہوں نے مارکیٹ میں قیمتوں کو اعتدال میں رکھنے کے لیے واضح ماحولیاتی معیارات کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دینے کی بھی سفارش کی۔

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp