اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
کینیڈا میں گِگ ورکرز کی ملک میں ہڑتالوں پر پابندی عائد
رپورٹ : اسمعیل اثر نمائندہ لیبر نیوز کینیڈا
جنیوا میں منعقدہ بین الاقوامی لیبر کانفرنس میں کینیڈا نے عالمی سطح پر اوبر، فوڈ پانڈا اور دیگر ڈیلیوری پلیٹ فارمز سے وابستہ عارضی ملازمین کے حقوق اور یونین سازی کی کھل کر حمایت کی ہے
تاہم اس عالمی موقف کے برعکس، خود کینیڈا کے اندر مزدوروں کے حقوق کو سلب کرنے اور ہڑتال کرنے کے بنیادی آئینی حق کو محدود کرنے پر جسٹن ٹروڈو کی حکومت کو شدید ترین تنقید کا سامنا ہے، جس نے کینیڈا کی لیبر پالیسیوں کے دہرے معیار کو دنیا بھر میں بے نقاب کر دیا ہے
بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کے اس اہم اجلاس میں کینیڈا نے دنیا بھر میں گِگ ورکرز کے لیے باوقار روزگار سماجی تحفظ اور اجتماعی سودے بازی کے اصولوں کو مینیجسٹو کا حصہ بنانے پر زور دیا
کینیڈین وفد نے ترقی پذیر ممالک کو یہ مشورہ دیا کہ وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کام کرنے والے لاکھوں محنت کشوں کو تنہا نہ چھوڑیں اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے سخت قوانین وضع کریں
اس موقف کے بعد عالمی سطح پر کینیڈا کو محنت کشوں کے حقوق کے ایک بڑے چیمپیئن کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔
عالمی فورمز پر مزدوروں کے حقوق کی وکالت کرنے والا کینیڈا اپنے ملک کے اندرونی معاملات میں بالکل مختلف رویہ اختیار کیے ہوئے ہے
کینیڈین حکومت نے حال ہی میں ملک کے اندر ریلوے، بندرگاہوں اور دیگر اہم صنعتی شعبوں میں مزدوروں کی جانب سے کی جانے والی جائز ہڑتالوں کو روکنے کے لیے ریاستی طاقت اور قانونی پابندیوں کا سہارا لیا ہے
لیبر یونینز کے مطابق حکومت نے ایسے قوانین اور ہنگامی احکامات جاری کیے ہیں جو محنت کشوں کے احتجاج اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کے بنیادی آئینی حق کو براہِ راست مفلوج کرتے ہیں۔
ماہرینِ قانون اور مزدور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ٹروڈو حکومت کا یہ رویہ نہ صرف کینیڈا کے اپنے آئین کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ بین الاقوامی لیبر قوانین کے بھی منافی ہے
جب کینیڈا کی اپنی بندرگاہوں اور سپلائی چین کے مزدور تنخواہوں میں اضافے اور کام کے بہتر حالات کے لیے پرامن احتجاج کا راستہ اپناتے ہیں، تو حکومت کاروباری طبقے اور کارپوریٹ مافیا کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہڑتالوں کو غیر قانونی قرار دے دیتی ہے۔
کینیڈا کی اس منافقت پر ملک کی بڑی لیبر فیڈریشنز اور عالمی مبصرین نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یونین رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ٹروڈو حکومت باہر کی دنیا کو دکھانے کے لیے تو گِگ ورکرز اور عارضی ملازمین کی ہمدرد بنتی ہے
لیکن جب کینیڈا کے اپنے ریلوے ملازمین اور بندرگاہ کے ورکرز معاشی انصاف کا تقاضا کرتے ہیں، تو ان کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے جاتے ہیں
رپورٹ کے مطابق، یہ صورتحال کینیڈا کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔ اگر کینیڈا واقعی انسانی حقوق اور لیبر قوانین کی بالادستی پر یقین رکھتا ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے ملک کے اندرونی قوانین کو درست کرنا ہوگا
اور کارپوریٹ دباؤ میں آکر مزدوروں کا گلا گھونٹنے کی پالیسی ترک کرنی ہوگی۔ عالمی برادری اب کینیڈا کے اس تضاد کو محض ایک سیاسی ڈرامہ قرار دے رہی ہے
