اقوامِ متحدہ سے تارکینِ وطن محنت کشوں کے لیے یونین سازی کے حقوق تسلیم کرنے کا مطالبہ
پاکستان میں 86 لاکھ معصوم بچے مشقت پر مجبور
رپورٹ : اسامہ قذافی ، نمائندہ لیبرنیوز اسلام آباد
نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس نے یونیسف کے تعاون سے ملک میں بچوں سے مشقت کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور تشویشناک قومی رپورٹ جاری کی ہے۔
پاکستان چائلڈ لیبر سروے ایکشن کے لیے شواہد کے عنوان سے جاری ہونے والی یہ رپورٹ تقریباً تین دہائیوں کے بعد چائلڈ لیبر کے حوالے سے پہلا جامع اور ملک گیر ڈیٹا فراہم کرتی ہے
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت 86 لاکھ بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں۔ ان میں سے 66 لاکھ سے زائد بچے ایسے خطرناک کاموں میں مصروف ہیں جو ان کی صحت، حفاظت اور مستقبل کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔
رپورٹ کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے این سی ایچ آر کی چیئرپرسن رابعہ جاویدی آغا نے بتایا کہ پاکستان میں چائلڈ لیبر کا آخری جامع سروے 1996 میں ہوا تھا
جس کے بعد سے پالیسی ساز اور ترقیاتی شراکت دار بیس سال سے زائد عرصے تک پرانے اور ادھورے ڈیٹا پر انحصار کرنے پر مجبور تھے
انہوں نے زور دیا کہ اگرچہ صوبوں کے لحاظ سے شرح میں فرق ہے، لیکن خطرناک چائلڈ لیبر ہر خطے کے بچوں کو متاثر کرنے والا ایک وسیع اور سنگین مسئلہ ہے۔
رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، چائلڈ لیبر کا سب سے بڑا بوجھ صوبہ پنجاب پر ہے، جہاں 60 لاکھ سے زائد بچے مشقت کر رہے ہیں۔ اس کے بعد سندھ میں 16 لاکھ، خیبر پختونخوا میں 7 لاکھ 45 ہزار 155، بلوچستان میں 2 لاکھ 1 ہزار 352، اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد (ICT) میں 15 ہزار 180 بچے چائلڈ لیبر کا شکار پائے گئے ہیں
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ غربت چائلڈ لیبر کا سب سے مضبوط اور بڑا محرک ہے۔ یہ شرح ان غریب ترین گھرانوں اور خاندانوں میں سب سے زیادہ دیکھی گئی جہاں والدین کی تعلیم کی سطح انتہائی کم ہے
لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکوں میں مشقت اور خاص طور پر خطرناک کاموں میں شامل ہونے کا رجحان نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ رپورٹ کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ چائلڈ لیبر کا ایک بڑا حصہ خاندانی فارمز، خاندانی ورکشاپس اور گھروں کے اندر ہی ہوتا ہے، جس کی وجہ سے روایتی لیبر انسپکشن کے نظام کے لیے اسے دیکھنا اور اس پر قابو پانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے
ان حالات کا معصوم بچوں کی صحت اور ذہنی نشوونما پر انتہائی ہولناک اثر پڑ رہا ہے۔ مشقت میں شامل بچے اسکولوں سے باہر رہنے، طویل گھنٹوں تک کام کرنے اور کام کے دوران زخموں، بیماریوں، شدید تھکن اور خراب ذہنی صحت کا شکار ہونے کے شدید خطرے سے دوچار ہیں
مختلف صوبوں میں 32 سے 58 فیصد کام کرنے والے بچوں نے کام کے دوران لگنے والی چوٹوں یا بیماریوں کی تصدیق کی، جبکہ بڑی عمر کے محنت کش بچوں میں سے ایک تہائی نے ڈپریشن (اضطراب) کی علامات رپورٹ کیں۔
اس موقع پر وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا کہ چائلڈ لیبر کا مسئلہ کوئی ایک وزارت یا اکیلی مداخلت حل نہیں کر سکتی۔ شواہد سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ پاکستان میں چائلڈ لیبر بہت سے لوگوں کے اندازوں سے کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر پھیل چکی ہے
پاکستان کے آئینی وعدوں کا ذکر کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 11 کا حوالہ دیا جو 14 سال سے کم عمر بچوں کو خطرناک ملازمتوں میں رکھنے سے روکتا ہے، اور آرٹیکل 25A کا ذکر کیا جو مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دیتا ہے
انہوں نے پالیسی سازی میں خود بچوں کی آراء اور ان کے تجربات کو شامل کرنے پر زور دیا۔
وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چائلڈ لیبر ناگزیر نہیں ہے، بلکہ یہ غربت اور کم سرمایہ کاری کا نتیجہ ہے۔ ہمارا معیارِ کامیابی یہ ہونا چاہیے کہ ہر بچہ کام پر جانے کے بجائے اسکول میں تعلیم حاصل کرے۔
