July 23, 2026

22 جون 1977 اور عالمی تحریکِ محنت کشوں کی یادگار جدوجہد

 22 جون 1977 اور عالمی تحریکِ محنت کشوں کی یادگار جدوجہد

رپورٹ ، محمد طابش، ہیڈ لیبرنیوز ریسرچ ڈیسک

مزدور تحریکوں اور محنت کشوں کی تاریخ محض چند واقعات کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ ان اَن گنت انسانوں کے خون پسینے، آنسوؤں اور قربانیوں کی داستان ہے

جنہوں نے اپنے بنیادی حقوق اور انسانی وقار کی خاطر وقت کے جابر ترین نظاموں سے ٹکر لی۔ ڈیجیٹل میڈیا اور تاریخی آرکائیوز کے اس دور میں ہمیں ماضی کے ان تلخ اور سبق آموز دنوں کی یاد دلاتے ہیں جو موجودہ دور کے محنت کشوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں

ایسا ہی ایک تاریخی اور ناقابلِ فراموش دن 22 جون 1977 کا ہے، جو برطانیہ اور مغربی دنیا میں طبقاتی جدوجہد، نسلی و صنفی تفریق کے خلاف مزاحمت اور مزدور یکجہتی کی ایک لازوال علامت بن کر ابھرا۔ یہ وہ دور تھا جب لندن کی سڑکوں پر ایک چھوٹی سی فلم پروسیسنگ لیبارٹری سے شروع ہونے والی ہڑتال نے پورے ملک کے سیاسی اور معاشی ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا

برطانیہ کی تاریخ میں 1976 سے 1978 تک جاری رہنے والی گرانوک ہڑتال کو مزدور تحریکوں کا ایک اہم ترین موڑ مانا جاتا ہے۔ 22 جون 1977 وہ دن تھا جب یہ تنازعہ اپنے عروج پر پہنچ چکا تھا

لندن کے علاقے ویلسڈن میں واقع گرانوک فلم پروسیسنگ فیکٹری میں کام کرنے والے زیادہ تر ملازمین جنوبی ایشیا اور افریقہ سے ہجرت کر کے آنے والے تارکینِ وطن تھے، جن میں خواتین کی بڑی تعداد شامل تھی۔

ان محنت کشوں کو انتہائی قلیل اجرت، بدترین حالاتِ کار اور انتظامیہ کے توہین آمیز رویے کا سامنا تھا۔ اس جدوجہد کی قیادت ایک پرعزم اور دلیر جنوبی ایشیائی خاتون، جیا بین دیسائی کر رہی تھیں

جب انتظامیہ نے ان کے مطالبات ماننے اور یونین بنانے کے حق کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، تو یہ تحریک فیکٹری کی چار دیواری سے نکل کر پورے برطانیہ کی ٹریڈ یونینز کا مشترکہ بیانیہ بن گئی۔

22 جون 1977 کو برطانیہ بھر سے ہزاروں کی تعداد میں ڈاک ملازمین، کان کن اور دیگر صنعتی ورکرز نے نسلی اور لسانی تفریق کو بالائے طاق رکھ کر ان تارکینِ وطن خواتین کے حق میں فیکٹری کے باہر تاریخی احتجاجی مظاہرہ کیا اور پولیس کی بھاری نفری کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہو گئے

تاریخی دستاویزات کے مطابق، جون 1977 کا یہ ہفتہ شدید ترین تصادم کا گواہ تھا۔ فیکٹری مالکان کو برطانوی اشرافیہ اور دائیں بازو کے سیاست دانوں کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی، جبکہ دوسری طرف اسٹرائیکرز مظاہرین کو روکنے کے لیے پولیس کے بدنامِ زمانہ خصوصی دستوں  کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔

 22 جون کو پولیس اور مزدوروں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، سینکڑوں کی تعداد میں پرامن مظاہرین کو گرفتار کیا گیا اور ریاستی جبر کے ذریعے اس آواز کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔

برطانوی ٹریڈ یونین کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب سفید فام برطانوی مزدوروں نے اتنی بڑی تعداد میں کسی ایسے احتجاج کی قیادت کی جس کا مرکز غیر ملکی اور خاص طور پر ایشیائی خواتین تھیں۔ جیا بین دیسائی کا یہ جملہ تاریخ کا حصہ بن گیا جو انہوں نے مینیجر سے کہا تھا

تم جو مینوفیکچرنگ آرڈر چلاتے ہو، وہ کوئی مشین نہیں بلکہ انسان ہیں۔ تم ہمیں چڑیا گھر کے جانوروں کی طرح نہیں ہانک سکتے

اگرچہ یہ ہڑتال اپنے مروجہ اہداف مکمل طور پر حاصل نہ کر سکی، لیکن اس نے یہ ثابت کر دیا کہ نچلے طبقے کے حقوق کی جنگ رنگ، نسل اور قومیت کی محتاج نہیں ہوتی۔

آج جب ہم سال 2026 میں اس تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں، تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ 1977 کے ان واقعات کو یاد رکھنا کیوں ضروری ہے؟

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آج بھی نجی شعبے، سب کانٹریکٹ لیبر اور تھرڈ پارٹی مینوفیکچرنگ میں کام کرنے والے مزدوروں کے مسائل جوں کے توں ہیں۔ کارپوریٹ سیکٹر کا استحصال، یونین سازی پر پابندیاں اور کم از کم اجرت کی خلاف ورزیاں آج بھی دنیا بھر کے محنت کشوں کا مقدر ہیں۔

مزدور تاریخ کے یہ ابواب ہمیں سکھاتے ہیں کہ جب تک محنت کش طبقہ اپنے حقوق کے لیے متحد نہیں ہوگا، تب تک سرمایہ دارانہ نظام ان کا استحصال کرتا رہے گا۔

  جون 1977 کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی اور حقوق کبھی تحفے میں نہیں ملتے، بلکہ ان کے لیے طویل اور کٹھن جدوجہد کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp