July 24, 2026

کپاس کی ملکی پیداوار میں کمی، پاکستان کو 72 لاکھ گانٹھیں درآمد کرنا پڑیں گی

 کپاس کی ملکی پیداوار میں کمی، پاکستان کو 72 لاکھ گانٹھیں درآمد کرنا پڑیں گی

اسلام آباد ( لیبر نیوز کامرس اینڈ ٹریڈ ڈیسک )  کاٹن سیزن 2026-27 میں مقامی ٹیکسٹائل ملوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پاکستان کو تقریباً 72 لاکھ گانٹھیں روئی درآمد کرنی پڑے گی۔

کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق نے امریکی محکمہ زراعت  کی تازہ ترین رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس سال ملک میں کپاس کی پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں 2 لاکھ 72 ہزار گانٹھوں کی کمی کے ساتھ 69 لاکھ 40 ہزار گانٹھیں رہنے کا امکان ہے، جبکہ مقامی ٹیکسٹائل ملوں کی مجموعی کھپت کا تخمینہ 1 کروڑ 41 لاکھ 50 ہزار گانٹھوں کا لگایا گیا ہے

عالمی تناظر میں رپورٹ کے مطابق، چین 4 کروڑ 56 لاکھ گانٹھوں کے ساتھ دنیا میں کپاس پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک رہے گا، جبکہ بھارت میں 3 کروڑ 26 لاکھ، برازیل میں 2 کروڑ 38 لاکھ اور امریکا میں 1 کروڑ 80 لاکھ گانٹھیں متوقع ہیں۔

 احسان الحق نے بتایا کہ پاکستان میں عید الاضحیٰ کے بعد کاٹن جننگ کا باقاعدہ سیزن شروع ہوگا، جہاں اس وقت پھٹی کے نرخ 11,500 روپے فی 40 کلوگرام اور روئی کی قیمت 22,500 روپے فی من پر مستحکم ہے۔

انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ کاٹن جننگ سیکٹر پر عائد ریکارڈ 84 فیصد سیلز ٹیکس کی وجہ سے کئی مالکان غیر دستاویزی کاروبار کی طرف جا رہے ہیں، جس سے معیشت کو نقصان اور ملکی پیداوار کے اعدادوشمار متنازع ہو رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ بجٹ میں پی سی جے اے  کی تجاویز شامل کرے۔

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp