نمک کی برآمدات میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے کسٹمز اور صنعتی نمائندوں میں اتفاق
محنت کش عورت ریلی
رپورٹ ( ایمن اکرم ، نمائندہ لیبر نیوز ) کراچی کی شاہراہوں پر سرخ جھنڈوں اور نعروں کی گونج میں ہزاروں محنت کش خواتین نے عالمی سامراجی نظام، جنگی جنون اور معاشی استحصال کے خلاف ایک بڑی احتجاجی طاقت کا مظاہرہ کیا۔
ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن کے زیر اہتمام آرٹس کونسل سے پریس کلب تک نکالی گئی اس محنت کش عورت ریلی نے واضح کیا کہ آج کی عورت محض گھریلو اکائی نہیں بلکہ عالمی سیاست اور طبقاتی جدوجہد کا ایک شعوری حصہ ہے
ریلی کی قیادت کرنے والی فیڈریشن کی جنرل سیکرٹری، کامریڈ زہرا خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دور انسانیت کے لیے ایک پرآشوب وقت ہے جہاں سرمایہ دارانہ منافع کی ہوس نے دنیا کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی، لبنان، یمن اور شام کی بربادی، اور حال ہی میں ایران کی خودمختاری پر مسلح جارحیت کی سخت مذمت کی۔
زہرا خان نے وینزویلا کے صدر اور خاتون اول کے مبینہ جبری اغوا اور کیوبا پر معاشی پابندیوں کو عالمی بدمعاشی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان جنگوں کا سب سے زیادہ خمیازہ عورتوں اور بچوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے
نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری ناصر منصور نے عالمی فوجی اخراجات کے ہوشربا اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ جہاں دنیا بھر میں سالانہ 2.7 ٹریلین ڈالر اسلحے پر خرچ ہو رہے ہیں، وہیں بھوک کے خاتمے کے لیے اس کا معمولی حصہ بھی وقف نہیں کیا جاتا۔
ریلی کے شرکاء نے پاکستانی حکمرانوں کی پالیسیوں پر بھی کڑی تنقید کی، جن کے نتیجے میں ملک پڑوسی ممالک سے تنازعات اور سات سمندر پار سامراجی دوستی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے اسد اقبال بٹ نے خبردار کیا کہ ان ناعاقبت اندیش پالیسیوں کی وجہ سے ایک عالمی جنگ پاکستان کی سرحدوں پر دستک دے رہی ہے، جس کا نتیجہ مہنگائی کے طوفان اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں نکل رہا ہے۔
ریلی کے اختتام پر محنت کش عورتوں نے ایک جامع مطالباتی یادداشت پیش کی، جس میں کہا گیا کہ ایران اور فلسطین میں فوری جنگ بندی اور فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے ،
مطالبہ کیا گیا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، ایمان مزاری اور علی وزیر سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی عمل میں لائی جائے، ٹیکسٹائل اور دیگر کارگاہوں میں عورتوں کی ہراسگی کا خاتمہ اور یکساں کام سمیت یکساں اجرت کا نفاذ کیا جائے، پنجاب کے مزدور دشمن لیبر کوڈ کی واپسی اور ٹھیکیداری نظام کا مکمل خاتمہ کیا جائے، پیٹرولیم مصنوعات پر حکومتی لیوی میں کمی تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے
ڈاکٹر ریاض شیخ اور دیگر مقررین نے 118 سال قبل نیویارک کی ٹیکسٹائل ورکرز کی جدوجہد کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ یہ تحریک اب ایک عالمی انقلاب کی صورت اختیار کر چکی ہے۔
ریلی میں شریک ہاری عورتوں، ٹرانس جینڈر کمیونٹی اور گارمنٹ ورکرز نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ صنفی جبر، مذہبی انتہاپسندی اور آمریت کے خلاف اپنی جدوجہد اس وقت تک جاری رکھیں گی جب تک ایک طبقاتی اور صنفی انصاف پر مبنی سماج قائم نہیں ہو جاتا
