پینٹاگون کا لیبر یونین ختم کرنے کا حکم، امریکی لیبر یونینز اور انتظامیہ میں تصادم
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی : پاکستان کی انرجی سپلائی لائن برقرار
رپورٹ (حنظلہ عماد، ریذیڈنٹ ایڈیٹر بلوچستان) مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحیرہ عرب میں سیکیورٹی خدشات کے باوجود پاکستان اپنی انرجی سپلائی لائن کو محفوظ اور فعال رکھنے میں کامیاب رہا ہے
مارچ 2026 کے دوران ملک کی اہم بندرگاہوں، کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم پر تیل اور مائع گیس (LPG) کے جہازوں کی آمد و رفت میں نہ صرف تسلسل برقرار رہا بلکہ معمول سے زیادہ آپریشنز دیکھنے میں آئے
پاکستان نے حالیہ جغرافیائی سیاسی تناؤ کے پیشِ نظر اپنی ترسیلی حکمتِ عملی میں تبدیلی کی ہے اسٹریٹ آف ہرمز جیسے حساس راستے پر انحصار کم کرنے یا اسے بائی پاس کرنے کی حکمتِ عملی کے تحت مجموعی طور پر تیل کے 18 اور ایل پی جی کے 6 جہاز پاکستانی حدود میں پہنچے
ان میں سے بیشتر جہازوں نے فجیرہ متحدہ عرب امارات، عمان اور سنگاپور کی بندرگاہوں سے اپنا سفر شروع کیا، جو پاکستان کے لیے توانائی کی بلا تعطل فراہمی کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہو رہے ہیں
کراچی پورٹ ٹرسٹ کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ کے مہینے میں کراچی پورٹ پر تیل کے 9 بڑے جہاز لنگر انداز ہوئے۔ ان میں سے 2 جہاز پیٹرول جبکہ 7 جہاز خام تیل لے کر پہنچے تھے،
جن کی ہینڈلنگ ہنگامی بنیادوں پر مکمل کی گئی۔ دوسری جانب پورٹ قاسم پر بھی آپریشنز کا دباؤ رہا، جہاں پیٹرول اور ڈیزل کے مزید 9 جہازوں کی برتھنگ کی گئی۔
بندرگاہوں کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ عید کی تعطیلات اور رات کے اوقات میں بھی جہازوں کی برتھنگ اور کارگو ڈسچارجنگ کا عمل روکا نہیں گیا، تاکہ ملک میں ایندھن کے ذخائر کی سطح کو برقرار رکھا جا سکے۔
مائع گیس کی سپلائی کے حوالے سے پورٹ قاسم کے مختلف ٹرمینلز پر غیر معمولی سرگرمی دیکھی گئی پورٹ قاسم پر ایل پی جی کے 4 جہاز کامیابی سے ڈسچارج ہو چکے ہیں جبکہ 2 تاحال لنگر انداز ہیں۔ اہم جہازوں میں نیوی گیٹر ایریز شامل ہے
جس نے سوئی سدرن ٹرمینل پر 11 ہزار 136 میٹرک ٹن ایل پی جی اتاری۔ اسی طرح ‘پی جی سی پیری کلیز نے اینگرو ٹرمینل پر 3800 میٹرک ٹن گیس فراہم کی
دیگر جہازوں میں نیوی گیٹر ایٹلانٹک 12 ہزار 24 کیوبک میٹر اور السواٹر 3 ہزار 530 کیوبک میٹر نے اپنا کارگو مکمل کرنے کے بعد اپنی اگلی منزلوں کی جانب سفر شروع کر دیا ہے
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگی ماحول میں سپلائی چین کو بحال رکھنا پاکستان کی پورٹ مینجمنٹ اور سیکیورٹی اداروں کی مشترکہ کامیابی ہے
ان اقدامات کی بدولت مقامی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی کی دستیابی یقینی ہوئی ہے جس سے نہ صرف صنعتی پہیہ چل رہا ہے بلکہ عوامی سطح پر بھی توانائی کے بحران کا خدشہ ٹل گیا ہے
