نجکاری کی دوڑ اور محنت کشوں کا بدترین استحصال
رپورٹ ( حسن خان ، ہیڈ کامرس اینڈ ٹریڈ ڈیسک )
سیاسی فلسفے کے طور پر لبرل ازم نے یورپی تاریخ میں جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ کر کے نئے نظریات کی راہ ہموار کی تھی، لیکن بیسویں صدی کے اواخر میں اس فلسفے نے ‘نیو لبرل ازم اور آزاد منڈی کی شکل اختیار کر لی۔
2008ء کے عالمی معاشی بحران اور موجودہ دور کے مالیاتی جھٹکوں نے اس بیانیے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ورلڈ انیکوالیٹی رپورٹ کے مطابق دنیا کے امیر ترین 10 فیصد افراد مجموعی عالمی دولت کے 75 فیصد پر قابض ہیں،
جبکہ نچلا 50 فیصد طبقہ محض 2 فیصد دولت پر گزارا کر رہا ہے۔ عالمی سطح پر امیر اور غریب کی یہ بڑھتی ہوئی خلیج اب پاکستان کے معاشی اور سماجی ڈھانچے کو بھی تیزی سے کھوکھلا کر رہی ہے۔
عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ کر 44.7 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
اس ہولناک صورتحال کے باوجود ملک کے محکمہ جاتِ محنت اور دیگر نگران ادارے گہری نیند سو رہے ہیں۔ پاکستان اس وقت نیو لبرل پالیسیوں کے تحت نجکاری، ڈی ریگولیشن اور لبرلائزیشن کی لہر کی زد میں ہے
ایک ایسے وقت میں جب نیو لبرل ازم کے بانی مغربی ممالک خود تحفظ پسندی کی طرف لوٹ رہے ہیں، پاکستان میں کاروبار حکومت کا کام نہیں اور نجی شعبے کو آگے آنا چاہیے جیسے بیانیوں کو گلیمرائز کیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں 1992ء سے جاری ریاستی اداروں کی کوڑیوں کے دام نجکاری نے نجی مالکان کے منافع تو بڑھائے، لیکن ملازمین کی زندگیوں کو بدتر کر دیا۔
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی حالیہ متنازع نجکاری اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ سچ یہ ہے کہ اس تمام تر سرمائے کی منتقلی کے باوجود ملک کی معیشت کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے بغیر 6 فیصد کی شرح سے ترقی کرنے کے قابل بھی نہیں رہی
سندھ منیمم ویج بورڈ کے رکن اور معروف مزدور رہنما ناصر منصور کے مطابق، پاکستان کی 8 کروڑ (80 ملین) ورک فورس میں سے 23 فیصد صنعت اور 27 فیصد مالیاتی شعبے سے وابستہ ہیں،
جن میں 90 فیصد ہنرمند ورکرز ہیں۔ انہوں نے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ ملک کے صنعتی شعبے میں سے صرف 5 فیصد حکومت کی مقرر کردہ کم از کم اجرت کی پالیسی پر عمل کرتا ہے۔
اداروں کی نااہلی کا یہ عالم ہے کہ ای او بی آئی کی جانب سے 80 لاکھ رجسٹرڈ ملازمین کا دعویٰ دراصل 50 فیصد مبالغہ آرائی پر مبنی ہے۔ اسی طرح، سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن کاغذات پر 5 لاکھ ورکرز ظاہر کرتا ہے، جبکہ زمین پر یہ تعداد ڈھائی لاکھ سے زیادہ نہیں ہے
شہرِ قائد کراچی میں معاشی استحصال کی بدترین مثالیں سیکیورٹی گارڈز اور خواتین ورکرز کی شکل میں نظر آتی ہیں۔ کراچی میں زیادہ تر سیکیورٹی گارڈز روزانہ 12 گھنٹے ڈیوٹی کرنے پر مجبور ہیں، اور انہیں ماہانہ صرف 16 سے 20 ہزار روپے اجرت دی جاتی ہے،
جو کہ قانونی کم از کم اجرت سے آدھی ہے۔ ان گارڈز کو پورے سال میں ایک بھی چھٹی میسر نہیں ہوتی، یہاں تک کہ عید کی خوشیوں میں شامل ہونے کے لیے بھی انہیں نوکری چھوڑنی پڑتی ہے۔ دوسری طرف، خواتین ورک فورس، بالخصوص گھروں میں کام کرنے والی مائیاں اور ٹیکسٹائل فیکٹریوں کی خواتین ملازمین، بدترین صنفی اور معاشی جبر کا شکار ہیں
تجارتی تنظیمیں جیسے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری صرف نمائشی سرگرمیوں، فوٹو سیشنز اور حکومت کے خلاف رسمی ہڑتالوں تک محدود ہیں، جن کے بعد پسِ پردہ معذرت نامے مانیٹر کیے جاتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ‘خواتین کا عالمی دن جو محنت کش خواتین کے حقوق کی آواز بلند کرنے کے لیے تھا،
اب متبادل پوسٹ ماڈرن اور ریڈیکل تحریکوں کی نذر ہو چکا ہے، جس سے اصل محروم طبقے کے معاشی مطالبات پسِ پشت چلے گئے ہیں۔
معاشی ماہرین یہ سوال اٹھانے پر مجبور ہیں کہ اس بڑھتی ہوئی عدم مساوات، غربت اور مزدوروں کے حقوق پر ڈاکے کا ذمہ دار آخر کون ہے؟ ریاستی ادارے واقعی نجی شعبے کے حوالے کیے گئے یا انہیں مخصوص اشرافیہ کے ہاتھوں کوڑیوں کے دام لٹوا دیا گیا؟
