خلیجی جنگ میں مزدور غیر محفوظ
رپورٹ ( فیصل شہزاد ، ہیڈ لیبر نیوز خلیج ڈیسک )
خلیجی ممالک کی چمکتی معیشتوں کی تعمیر میں لاکھوں غیر ملکی مزدوروں نے برسوں محنت کی، مگر جنگی کشیدگی نے اب انہی مزدوروں کو خوف، بے یقینی اور معاشی بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے
بہتر روزگار کے لیے اپنے وطن چھوڑنے والے ہزاروں مزدور اب اس سوال سے دوچار ہیں کہ خطرات کے باوجود خلیج میں رہیں یا بڑھتی مہنگائی اور بے روزگاری والے اپنے ممالک واپس لوٹ جائیں۔
بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے محمد عبداللہ المامون بھی انہی مزدوروں میں شامل تھے۔ وہ پندرہ برس سعودی عرب میں کام کرتے رہے اور اپنی کمائی گھر بھیج کر خاندان کی کفالت کرتے تھے
اس برس انہوں نے وطن واپس جا کر نیا گھر بنانے اور اپنے بچے کے ساتھ وقت گزارنے کا منصوبہ بنایا تھا، مگر آٹھ مارچ کو ایک میزائل حملے نے ان کی زندگی ختم کر دی۔ حملے میں شدید جھلسنے کے بعد وہ جانبر نہ ہو سکے اور ان کی میت تابوت میں وطن واپس پہنچی
انسانی حقوق تنظیموں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد درجنوں غیر ملکی مزدور میزائل اور ڈرون حملوں میں مارے جا چکے ہیں
کئی مزدوروں کو حفاظتی پناہ گاہوں تک رسائی بھی حاصل نہیں تھی جبکہ بعض سمندر میں کام کرنے والے ملاح بھی حملوں کا نشانہ بنے
خلیجی ممالک میں تارکین وطن مزدور آبادی کا بڑا حصہ ہیں۔ امیر ممالک سے آنے والے ماہرین کاروبار اور مالیاتی شعبوں میں کام کرتے ہیں
جبکہ ایشیا اور افریقہ کے غریب ممالک سے تعلق رکھنے والے مزدور سخت گرمی، طویل اوقاتِ کار اور محدود تحفظ کے ساتھ تعمیرات، کارخانوں اور گھریلو شعبوں میں کام کرتے ہیں
اگرچہ اپریل کے آغاز میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، مگر امن مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث بے یقینی برقرار ہے
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش نے بھی تیل کی عالمی ترسیل کو متاثر کیا ہے جس کے نتیجے میں ایندھن، کھاد اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کا سب سے زیادہ اثر جنوبی ایشیائی ممالک پر پڑ رہا ہے کیونکہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا جیسے ممالک کی معیشت بڑی حد تک بیرون ملک کام کرنے والے مزدوروں کی ترسیلات زر پر انحصار کرتی ہے
یہی رقوم لاکھوں خاندانوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں
قطر میں کام کرنے والے ایک بنگلہ دیشی مزدور نے بتایا کہ وہ میزائل حملوں کے دوران بھی طویل اوقات تک کام کرنے پر مجبور رہا
خطرے کے باوجود اس کے پاس ملازمت جاری رکھنے کے سوا کوئی راستہ نہیں کیونکہ اس کے خاندان کا انحصار اسی آمدنی پر ہے
اسی طرح قطر میں ایک مصری ٹیکسی ڈرائیور نے کہا کہ جنگ کے بعد سفر کم ہونے سے اس کی آمدنی نمایاں طور پر گر گئی ہے اور وہ کئی ہفتوں سے گھر پیسے نہیں بھیج سکا
لیبر ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو تعمیراتی اور صنعتی شعبوں میں روزگار کے مواقع مزید کم ہو سکتے ہیں
خاص طور پر وہ مزدور زیادہ متاثر ہوں گے جن کے پاس باقاعدہ معاہدے موجود نہیں۔ ایسے مزدوروں کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی، اچانک برطرفی اور استحصال جیسے خطرات کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔
اسرائیل میں کام کرنے والے ایک فلپائنی تیماردار نے کہا کہ مسلسل خطرے کے باوجود وہ بوڑھے مریضوں کی دیکھ بھال جاری رکھے ہوئے ہے
کیونکہ اگر وہ وطن واپس گیا تو اس کے خاندان کی زندگی شدید مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے۔ اس کے بقول جنگ نے مزدوروں کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں موت کا خوف بھی بھوک کے خوف سے چھوٹا محسوس ہونے لگا ہے
