June 2, 2026

آن لائن نوکریوں کا خطرناک جال بے نقاب

 آن لائن نوکریوں کا خطرناک جال بے نقاب

رپورٹ ( بون گی تن ، ویتنام )

 

ویتنام کی حکومت نے بیرونِ ملک ملازمتوں کے نام پر بڑھتے ہوئے آن لائن فراڈ، انسانی اسمگلنگ اور جبری مشقت کے خطرات کے پیشِ نظر شہریوں کو نیا انتباہ جاری کر دیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا اور غیر مصدقہ ویب سائٹس پر ’زیادہ تنخواہ‘ اور ’آسان کام‘ کے دلکش اشتہارات دراصل ایک خطرناک جال ثابت ہو سکتے ہیں۔

ویتنام کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے بدھ کو جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ حالیہ مہینوں میں ایسے متعدد کیسز سامنے آئے ہیں

جن میں ویتنامی شہری روزگار کے جھانسے میں آ کر بیرونِ ملک مشکلات کا شکار ہوئے۔ ان میں انڈونیشیا اور کمبوڈیا میں گرفتار یا پھنس جانے والے افراد کے معاملات خاص طور پر شامل ہیں۔

وزارتِ خارجہ کی ترجمان فام تھو ہینگ نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ حکومت کو ایسے معاملات میں مسلسل مداخلت کرنا پڑ رہی ہے

جہاں شہری مبینہ طور پر غیر قانونی نیٹ ورکس کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض افراد کو بیرونِ ملک پہنچنے کے بعد اپنی آزادی، دستاویزات اور رابطے کے ذرائع تک سے محروم ہونا پڑا۔

حکام کے مطابق انڈونیشیا میں ایک ویتنامی شہری کو قانونی خلاف ورزی کے شبہے میں گرفتار کیا گیا ہے جبکہ اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔

ویتنامی سفارت خانے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقامی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے، شہری کی شناخت کی تصدیق کرے اور اسے قانونی و قونصلر مدد فراہم کرے۔

دوسری جانب کمبوڈیا میں بھی متعدد ویتنامی شہری زیرِ حراست ہیں۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق ویتنامی نمائندہ ادارے مقامی حکام کے ساتھ مل کر متاثرہ افراد کی شناخت، ان کی حفاظت اور وطن واپسی کے عمل کو تیز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یکم اپریل سے اب تک تقریباً 200 ویتنامی شہریوں کو کمبوڈیا سے واپس لایا جا چکا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان میں سے کئی افراد کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز یا غیر رجسٹرڈ ایجنٹس کے ذریعے بیرونِ ملک ملازمتوں کی پیشکش کی گئی تھی۔

ویتنامی حکام کے مطابق ان مشتبہ ملازمتوں میں چند باتیں مشترک دیکھی گئی ہیں۔ اکثر اشتہارات میں کسی تعلیمی قابلیت یا پیشہ ورانہ مہارت کی شرط نہیں رکھی جاتی، فوری بھرتی کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے اور پرکشش تنخواہوں کے وعدے کیے جاتے ہیں۔

کئی معاملات میں نہ تو باقاعدہ ملازمت کا معاہدہ کیا جاتا ہے اور نہ ہی منظور شدہ لیبر کمپنیوں کو شامل کیا جاتا ہے۔

تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بعض متاثرہ افراد کو سرحد پار لے جانے کے بعد ان کے پاسپورٹ اور سفری دستاویزات ضبط کر لیے گئے۔ بعد ازاں انہیں مشتبہ کال سینٹرز، آن لائن فراڈ نیٹ ورکس یا سائبر اسکیمنگ گروپس میں کام کرنے پر مجبور کیا گیا۔

عالمی ادارے اس سے پہلے بھی جنوب مشرقی ایشیا میں سرگرم ایسے نیٹ ورکس کے بارے میں خبردار کرتے رہے ہیں

جو نوجوانوں کو مفت رہائش، آسان ملازمت اور بھاری تنخواہوں کے وعدوں کے ذریعے اپنی طرف راغب کرتے ہیں۔ بعد ازاں یہی افراد انسانی اسمگلنگ، جبری مشقت اور مالی استحصال کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ویتنامی وزارتِ خارجہ نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ بیرونِ ملک ملازمت قبول کرنے سے پہلے کمپنی کی قانونی حیثیت، کام کی نوعیت، معاہدے، انشورنس اور تنخواہ سمیت تمام تفصیلات کی مکمل تصدیق کریں۔

حکام کے مطابق صرف رجسٹرڈ اور مستند اداروں کے ذریعے ہی بیرونِ ملک روزگار اختیار کیا جانا چاہیے تاکہ شہری خود کو خطرناک حالات اور استحصال سے محفوظ رکھ سکیں۔

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp