May 31, 2026

پاکستان میں مزدوروں کے حقوق کی بہتری کے لیے عالمی اداروں کا اشتراک

 پاکستان میں مزدوروں کے حقوق کی بہتری کے لیے عالمی اداروں کا اشتراک

رپورٹ ( امیر صدیقی نمائندہ لیبر نیوز )

عالمی سطح پر ملبوسات اور جوتا سازی کی بڑی تجارتی تنظیموں نے پاکستان کی ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کی صنعت میں کام کرنے والے محنت کشوں کے حالاتِ کار کو بہتر بنانے اور بین الاقوامی لیبر قوانین کے نفاذ کے لیے ایک اہم شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔

 امریکن اپیرل اینڈ فٹ ویئر ایسوسی ایشن، فیئر لیبر ایسوسی ایشن  اور بیٹر ورک پاکستان نے ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد پاکستان کی سپلائی چین میں شفافیت لانا اور مزدوروں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

اس سہ فریقی اشتراک کا مقصد پاکستان کی ٹیکسٹائل فیکٹریوں میں کام کرنے والے لاکھوں مزدوروں کے لیے محفوظ اور سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔ اس پروگرام کے تحت درج ذیل اہم نکات پر توجہ دی جائے گی

فیکٹریوں میں بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کے طے کردہ معیارات اور مقامی مزدوری کے قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانا مزدوروں اور فیکٹری مالکان کو ان کے حقوق اور ذمہ داریوں کے بارے میں تربیت فراہم کرنا عالمی برانڈز کو یہ یقین دہانی کرانا کہ پاکستان میں تیار ہونے والا سامان کسی بھی قسم کے استحصال یا جبری مشقت کے بغیر تیار کیا گیا ہے

ٹیکسٹائل پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی صنعت ہے اور ملکی معیشت کا دارومدار بڑی حد تک اسی شعبے پر ہے۔ حالیہ برسوں میں عالمی خریداروں اور برانڈز کی جانب سے سپلائی چین کی اخلاقی جانچ پڑتال میں اضافہ ہوا ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ اور جیسے بڑے اداروں کی شمولیت سے پاکستانی مصنوعات کی عالمی ساکھ میں بہتری آئے گی اور امریکی و یورپی منڈیوں میں پاکستان کے لیے نئی راہیں کھلیں گی

بیٹر ورک پاکستان پہلے ہی ملک کی مختلف فیکٹریوں میں مزدوروں کی صحت، حفاظت اور صنفی مساوات پر کام کر رہا ہے۔ اس نئے معاہدے کے بعد فیکٹریوں میں خواتین ورکرز کے ساتھ ناروا سلوک کے خاتمے، کم از کم اجرت کی ادائیگی اور کام کے اوقات کو منظم کرنے میں مدد ملے گی

پاکستان کی مزدور تنظیموں نے اس اقدام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ شراکت داری صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہے گی

 بلکہ اس کے عملی اثرات زمین پر نظر آئیں گے۔ ان کا ماننا ہے کہ جب تک بیوروکریسی اور فیکٹری مالکان مزدوروں کو معاشی شراکت دار کے طور پر تسلیم نہیں کریں گے، حقیقی صنعتی ترقی ممکن نہیں ہے۔

اس تعاون کے ذریعے پاکستان کو ان ممالک کی فہرست سے نکلنے میں بھی مدد مل سکتی ہے جنہیں جبری مشقت یا کمزور لیبر قوانین کی وجہ سے امریکی تحقیقات کا سامنا ہے

 یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ عالمی معیار کے مطابق مزدوروں کے حقوق کا تحفظ ہی پاکستان کی معاشی بقا اور برآمدات میں اضافے کی واحد کلید ہے

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp