June 2, 2026

ایک کروڑ گھریلو محنت کش اپنے حقوق سے محروم

 ایک کروڑ گھریلو محنت کش اپنے حقوق سے محروم

رپورٹ  ( محمد تابش ، ہیڈ لیبر نیوز ریسرچ ڈیسک )  ہر سال جون میں گھریلو ملازمین کے حقوق کا عالمی دن تو منایا جاتا ہے، لیکن پنجاب میں صورتحال تاحال تشویشناک ہے۔ ‘ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ 2019 کی منظوری کو سالہا سال بیت گئے

 مگر اس پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے ایک کروڑ سے زائد گھریلو ملازمین، جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے آج بھی تشدد، معاشی استحصال اور قانونی تحفظ کے فقدان کا شکار ہیں۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں گھریلو ملازمین کی سب سے بڑی تعداد لاہور ڈویژن میں ہے جہاں 40 لاکھ سے زائد افراد اس شعبے سے وابستہ ہیں۔

اس کے بعد راولپنڈی میں 16 لاکھ، فیصل آباد میں 14 لاکھ اور گوجرانوالہ میں 12 لاکھ ملازمین کام کر رہے ہیں۔ ملتان، سرگودھا، ساہیوال اور ڈی جی خان میں بھی لاکھوں کی تعداد میں محنت کش موجود ہیں۔

 ان ملازمین کی اکثریت دیہی علاقوں سے ہجرت کر کے آنے والی خواتین اور بچوں پر مشتمل ہے، جبکہ چائلڈ لیبر کے اس شعبے میں بچیوں کی شرح سب سے زیادہ ہے

پنجاب میں گھریلو ملازمین کے حقوق کے لیے بنایا گیا ‘ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ 2019 خود کئی تضادات کا مجموعہ بن چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق قانون میں کام کی کم از کم عمر 15 سال مقرر کرنا آئینی دفعات سے متصادم ہے، جبکہ زچگی کی چھٹیاں بھی دیگر قوانین کے برعکس آدھی رہ گئی ہیں۔

بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی کے باعث یونین کونسل کی سطح پر تنازعات کے حل کی کمیٹیاں غیر فعال ہیں، جس سے ملازمین کو انصاف کی فراہمی ناممکن ہوگئی ہے۔

سول سوسائٹی کی کارکن آمنہ ملک کا کہنا ہے کہ آئی ایل او کنونشن کی توثیق کے باوجود یہ شعبہ تاحال غیر دستاویزی ہے اور کم از کم اجرت پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔

لاکھوں خواتین اور بچے بغیر کسی سوشل سیکیورٹی اور طبی تحفظ کے بدترین استحصال کا شکار ہیں، جس کے لیے قانون میں فوری ترامیم ناگزیر ہیں

ویمن ڈومیسٹک ورکرز یونین پنجاب کی صدرجو خود ماضی میں تشدد اور استحصال کا شکار رہی ہیں کہتی ہیں کہ صنفی بنیاد پر اجرت کا فرق اور سوشل سیکیورٹی کارڈز کا نہ ہونا بڑے مسائل ہیں۔

انہوں نے ملازمین کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ گھریلو ملازمین ساجدہ خاتون اور سکینہ بی بی کا کہنا ہے کہ این جی اوز کی سرگرمیاں صرف علامتی ہوتی ہیں چھٹی کرنے پر تنخواہ کاٹ لی جاتی ہے اور بیماری کی صورت میں کوئی طبی امداد نہیں ملتی

محکمہ لیبر پنجاب کے افسران نے بھی اعتراف کیا کہ قانون سازی میں خامیاں موجود ہیں اور گھروں کی رازداری کی وجہ سے انسپکشن میں چیلنجز کا سامنا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ کام کی کم از کم عمر 16 سال کرنے کی ترمیم تجویز کی گئی ہے چائلڈ لیبر کی بحالی کے مراکز قائم کیے جا رہے ہیں جہاں تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت دی جائے گی ملازمین کی رجسٹریشن کے لیے ڈیجیٹل سسٹم تیار کیا جا رہا ہے

دوسری جانب سوشل سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ گھریلو کام غیر رسمی شعبہ ہے، اس لیے فنڈنگ کا کوئی واضح طریقہ کار موجود نہیں۔ عملے کی کمی اور گھروں میں معائنے کے لیے قانونی حدود کی وجہ سے سوشل سیکیورٹی فوائد کی فراہمی میں رکاوٹیں حائل ہیں

یونین رہنماؤں نے زور دیا ہے کہ جب تک محنت کش متحد ہو کر سوشل سیکیورٹی، ہراساں کیے جانے کے خلاف تحفظ اور 40 ہزار روپے کم از کم اجرت کا مطالبہ نہیں کریں گے، ان کی حالتِ زار میں تبدیلی ممکن نہیں

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp