پاکستان میں 6 کروڑ محنت کش خواتین معاشی شناخت سے محروم
رپورٹ ( خالد جاوید ، نمائندہ لیبر نیوز )
: پاکستان کی معیشت میں خواتین کا کردار محض ایک معاون کا نہیں بلکہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، تاہم سماجی رویوں اور معاشی پیمانوں کی وجہ سے ان کی محنت کا ایک بڑا حصہ آج بھی غیر مرئی یا غیر دستاویزی ہے
لیبر فورس سروے 2024-25 کے تازہ اعداد و شمار اور قانونی ماہرین کے تجزیوں نے اس خاموش محنت کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے
حکومتی سروے کے مطابق پاکستان کی 16 سے 60 سال کی افرادی قوت میں 70 ملین افراد شامل ہیں۔ ان میں سے 13 ملین کو خاندانی معاون محنت کش قرار دیا گیا ہے جو بازار کے لیے اشیاء تیار کرتے ہیں یا گھریلو استعمال کی مصنوعات بناتے ہیں، لیکن انہیں کوئی تنخواہ یا منافع نہیں ملتا۔ اس طبقے میں 8 ملین خواتین شامل ہیں
تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ تعداد اصل محنت کا اعتراف نہیں کرتی۔ جب سروے میں مخصوص سرگرمیوں جیسے فصلوں کی کٹائی لائیو اسٹاک کی دیکھ بھال اور ایندھن کے لیے لکڑیاں جمع کرنے کا پوچھا گیا تو معلوم ہوا کہ مزید 24 ملین افراد جن میں 20 ملین خواتین ہیں اس مشقت کا حصہ ہیں
اس طرح پاکستان میں 28 ملین خواتین ایسی ہیں جو پیداواری معیشت میں بغیر کسی اجرت کے کام کر رہی ہیں پیداواری کاموں کے علاوہ سوشل ری پروڈکشن یا سماجی بقا کے لیے کیے جانے والے کام جیسے بچوں کی پرورش، بوڑھوں کی دیکھ بھال کھانا پکانا اور صفائی ستھرائی بھی خواتین کے کندھوں پر ہے
لیبر سروے کے مطابق تقریباً 51 ملین خواتین بلا معاوضہ دیکھ بھال کے کام انجام دیتی ہیں، خواتین اوسطاً ہفتے میں 16.1 گھنٹے دیکھ بھال کے کاموں پر صرف کرتی ہیں، جبکہ مردوں کے لیے یہ اوسط محض 2.6 گھنٹے ہے، یہ کام خاندان اور قومی معیشت کی بقا کے لیے ضروری ہونے کے باوجود معاشی طور پر صفر تصور کیے جاتے ہیں
عالمی سطح پر اس محنت کو تسلیم کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDG 5.4) ریاستوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ انفراسٹرکچر اور سماجی تحفظ کی پالیسیوں کے ذریعے بلا معاوضہ دیکھ بھال کے کام کی قدر کریں
پاکستان میں بھی اس سمت میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے جن میں سندھ وومن ایگریکلچرل ورکرز ایکٹ 2019 شامل ہے اس قانون کے تحت زراعت سے وابستہ کسی بھی خاتون کو محنت کش تسلیم کیا گیا ہے، چاہے وہ اجرت پر کام کرے یا بلا معاوضہ
خواتین کے حقوق کی تنظیم عورت مارچ نے 10 مئی کے اپنے لائحہ عمل میں یہ مطالبہ پیش کیا ہے کہ ریاست تمام خواتین کے لیے بنیادی آمدنی کی ضمانت فراہم کرے
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خیال محض اس لیے غیر معمولی لگتا ہے کیونکہ معاشرہ خواتین کی محنت کو نظر انداز کرنے کا عادی ہو چکا ہے
ماہرینِ سماجیات حارث گزدر اور قانون دان سارہ ملکانی کے مطابق، 6 کروڑ خواتین محنت کشوں کی محنت کو تسلیم کرنا محض معاشی ضرورت نہیں بلکہ ایک اخلاقی فریضہ ہے
اگر اس محنت کی قدر نہ کی گئی تو اس کے براہ راست اثرات خواتین اور ان کے بچوں کی صحت پر پڑتے رہیں گے۔
