April 17, 2026

خطے میں جنگی بادل اور دبئی کے محنت کش

 خطے میں جنگی بادل اور دبئی کے محنت کش

رپورٹ ( رئیس احمد ، نمائندہ متحدہ عرب امارات ) مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگی صورتحال نے جہاں عالمی سیاست اور تیل کی قیمتوں میں تلاطم پیدا کیا ہے،

 وہیں اس بحران کا ایک ایسا پہلو بھی سامنے آیا ہے جو معاشی ماہرین کے لیے باعثِ حیرت ہے۔ اس کھینچا تانی نے غیر متوقع طور پر محنت کش طبقے بالخصوص جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے محنت کشوں کے لیے روزگار کے نئے اور وسیع تر مواقع پیدا کر دیے ہیں

جنگی خدشات اور بین الاقوامی پابندیوں کے سائے میں، بہت سی کثیر القومی کمپنیوں اور لاجسٹک اداروں نے اپنے علاقائی آپریشنز کو ایران اور ملحقہ حساس علاقوں سے منتقل کر کے متحدہ عرب امارات کو اپنا نیا مرکز بنا لیا ہے

 دبئی، جو پہلے ہی ایک عالمی تجارتی گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے، اس بدلتی صورتحال میں ایک محفوظ پناہ گاہ اور سپلائی چین کے متبادل راستے کے طور پر ابھرا ہے

کمپنیوں کے اس بڑے پیمانے پر انخلا اور منتقلی نے دبئی کے تعمیراتی، انفراسٹرکچر، اور سروسز کے شعبوں میں افرادی قوت کی طلب میں اچانک اضافہ کر دیا ہے

حالیہ مہینوں میں دبئی کی لیبر مارکیٹ میں ریکارڈ تیزی دیکھی گئی ہے وہ محنت کش جو اپنے ممالک میں بے روزگاری کا شکار تھے، اب انہیں دبئی میں ترجیحی بنیادوں پر ملازمتیں فراہم کی جا رہی ہیں

نئے دفاتر اور گوداموں کی ہنگامی بنیادوں پر تعمیر نے ہزاروں مزدوروں اور میسنز کو روزگار فراہم کیا، بحری اور فضائی راستوں کی تبدیلی کی وجہ سے پورٹ ہینڈلنگ اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بڑی تعداد میں ڈرائیورز اور ٹیکنیشنز کی ضرورت پڑی ہے جبکہ کمپنیوں کے ڈیجیٹل ڈیٹا کی منتقلی کے لیے آئی ٹی ماہرین کی مانگ میں بھی اضافہ ہوا ہے

لیبر اور معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ ہمیشہ تباہی نہیں لاتی، بلکہ بعض اوقات معاشی جغرافیہ کو تبدیل کر کے نئے مراکزِ روزگار بھی تخلیق کرتی ہےایران پر پابندیوں اور امریکی دباؤ کے باعث جو تجارتی خلا پیدا ہوا ہے اسے پر کرنے کے لیے دبئی نے اپنی افرادی قوت کو تیزی سے وسعت دی

 محنت کشوں کے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی فائدہ مند رہی ہے کیونکہ دبئی میں کام کرنے کے حالات اور تنخواہیں جنگ زدہ یا معاشی بحران کا شکار دیگر پڑوسی ممالک کے مقابلے میں کہیں بہتر ہیں

اگرچہ تزویراتی ماہرین خطے میں دیرپا امن پر زور دے رہے ہیں، لیکن فی الحال اس جنگی معیشت کا سب سے بڑا فائدہ محنت کش طبقے کو پہنچ رہا ہے۔ وہ مزدور جو کل تک غیر یقینی صورتحال کا شکار تھے، آج دبئی کی چمک دمک میں اپنے خاندانوں کے لیے بہتر مستقبل تعمیر کر رہے ہیں

دوسری جانب لیبر ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ بوم عارضی بھی ہو سکتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ محنت کش اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی مہارتوں کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالیں تاکہ کسی بھی ممکنہ سیاسی استحکام کے بعد بھی ان کی مانگ برقرار رہے

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp