پینٹاگون کا لیبر یونین ختم کرنے کا حکم، امریکی لیبر یونینز اور انتظامیہ میں تصادم
برطانیہ میں نوجوان نسل کی ٹریڈ یونین تحریک کا آغاز
رپورٹ ( شمائلہ عمر، نمائندہ لیبر نیوز برطانیہ ) برطانوی ٹریڈ یونین تحریک، جو کئی دہائیوں سے روایتی طور پر بزرگ محنت کشوں کا گڑھ سمجھی جاتی تھی اب ایک بڑی تبدیلی کے دہانے پر کھڑی ہے
حالیہ برسوں میں 25 سال سے کم عمر نوجوانوں کی ریکارڈ شمولیت نے اس تحریک کو ایک نئی توانائی اور جدید رخ عطا کر دیا ہے معاشی دباؤ اور غیر یقینی مستقبل نے برطانیہ کی نئی نسل کو اپنے حقوق کے لیے منظم ہونے پر مجبور کر دیا ہے
برطانیہ میں گزشتہ چند سالوں سے جاری مہنگائی کی لہر، کرایوں میں بے تحاشہ اضافہ اور زندگی گزارنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے سب سے زیادہ نوجوان طبقے کو متاثر کیا ہے۔ بہت سے نوجوانوں کا خیال ہے کہ ان کی محنت کا ثمر کارپوریٹ منافع کی نذر ہو رہا ہے
جبکہ ان کی اپنی مالی حالت ابتر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب وہ خاموش رہنے کے بجائے ٹریڈ یونینز کا حصہ بن کر اجتماعی سودے بازی کا راستہ اختیار کر رہے ہیں
ماضی کے برعکس، آج کا نوجوان محنت کش صرف فیکٹریوں یا دفتروں تک محدود نہیں ہے۔ گیگ اکانومی یعنی ڈیلیوری رائیڈرز، فری لانسرز اور قلیل مدتی کنٹریکٹ پر کام کرنے والے لاکھوں نوجوانوں کو ملازمت کے تحفظ اور طبی سہولیات جیسی بنیادی مراعات حاصل نہیں ہیں
اس جدید غلامی کے خلاف نوجوانوں نے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو اپنا ہتھیار بنایا ہے۔ وہ واٹس ایپ گروپس اور دیگر ایپس کے ذریعے تیزی سے منظم ہوتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر چند گھنٹوں کے نوٹس پر احتجاج کی کال دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
برطانیہ میں ٹریڈ یونین تحریک کی اس نئی لہر کا سب سے بڑا مرکز وہ ملٹی نیشنل کمپنیاں ہیں جہاں ماضی میں یونین سازی کو ناممکن سمجھا جاتا تھا۔
ایمیزون کے لاجسٹک مراکز اور اسٹار بکس جیسے کافی ہاؤسز میں کام کرنے والے نوجوانوں نے مہم چلا کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ کارپوریٹ دباؤ کے سامنے جھکنے والے نہیں ہیں۔ ان اداروں میں یونین کی کامیابیوں نے دیگر شعبوں کے نوجوانوں کے لیے بھی حوصلہ افزائی کا کام کیا ہے
صنعتی تعلقات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کا یہ جوش و خروش برطانیہ کے صنعتی ڈھانچے میں ایک بڑی اور پائیدار تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ جہاں پہلے یونینز کو ماضی کا قصہ سمجھا جا رہا تھا
وہاں اب یہ ایک جدید اور متحرک طاقت بن کر ابھر رہی ہیں۔ نوجوانوں کی شمولیت سے نہ صرف یونینز کی رکنیت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ان کے طریقہ کار میں بھی جدت آئی ہے، جس میں صنفی برابری، ماحولیاتی تحفظ اور نسلی امتیاز جیسے موضوعات کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے
برطانیہ میں نوجوانوں کی یہ بیداری اس بات کی ضمانت ہے کہ مستقبل میں محنت کشوں کے حقوق کی جنگ مزید مضبوط ہوگی اور کارپوریٹ سیکٹر کو اپنے ملازمین کے مفادات کو ترجیح دینی ہوگی
