پینٹاگون کا لیبر یونین ختم کرنے کا حکم، امریکی لیبر یونینز اور انتظامیہ میں تصادم
کینیڈا کی ریلوے ہڑتالیں: محنت کشوں نے تاریخ کا دھارا بدل دیا
رپورٹ ( اسمعیل اثر ، نمائندہ لیبر نیوزکینیڈا ) کینیڈا کی تاریخ محض برف پوش پہاڑوں اور خوبصورت جھیلوں کی داستان نہیں ہے، بلکہ اس کی تعمیر کے پیچھے ان ہزاروں گمنام محنت کشوں کا لہو اور پسینہ شامل ہے جنہوں نے انسانیت سوز حالات میں دنیا کے مشکل ترین ریلوے ٹریکس بچھائے
برٹش کولمبیا میں فریزر ریور ریلوے کی تعمیر کے دوران ہونے والی ہڑتالیں کینیڈا کی مزدور تحریک میں وہ سنگ میل ہیں، جنہوں نے صنعتی قوانین اور انسانی حقوق کی بنیاد رکھی
انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں جب گرینڈ ٹرنک پیسیفک ریلوے کی تعمیر کا آغاز ہوا، تو اسے کینیڈا کو مشرق سے مغرب تک جوڑنے کا ایک عظیم منصوبہ قرار دیا گیا لیکن اس منصوبے کی چکا چوند کے پیچھے ایک تاریک حقیقت چھپی تھی

فریزر ریور کے دشوار گزار راستوں پر کام کرنے والے مزدوروں کو جن حالات کا سامنا تھا، وہ کسی قید خانے سے کم نہ تھے۔ پہاڑوں کو کاٹنا، بارود کا استعمال اور خطرناک ڈھلوانوں پر ٹریک بچھانا روز کا معمول تھا، لیکن اس جان لیوا کام کے بدلے ملنے والی اجرت نہ ہونے کے برابر تھی۔
مزدوروں کے کیمپوں میں صحت و صفائی کے ناقص انتظامات، خوراک کی کمی اور رہائشی سہولیات کی عدم دستیابی نے غم و غصے کو جنم دیا۔
ان حالات میں جب انتظامیہ نے مزدوروں کی آواز سننے سے انکار کیا، تو فریزر ریور کے کنارے احتجاج کی وہ چنگاری بھڑکی جس نے پورے کینیڈا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ احتجاج محض چند روپوں کے اضافے کے لیے نہیں تھا، بلکہ یہ انسانی وقار کی بحالی کی جنگ تھی۔
اس تحریک کی سب سے نمایاں خصوصیت مختلف قومیتوں کا اتحاد تھا۔ اس دور میں کینیڈا میں نسل پرستی عروج پر تھی، جہاں یورپی، چینی اور ایشیائی نژاد مزدوروں کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔
تاہم فریزر ریور کی ہڑتالوں کے دوران ان محنت کشوں نے ثابت کیا کہ بھوک اور استحصال کا کوئی مذہب یا رنگ نہیں ہوتا۔ ایشیائی اور یورپی مزدوروں نے کندھے سے کندھا ملا کر کمپنی انتظامیہ کے امتیازی سلوک کے خلاف سینہ تانی کی، جو اس دور کے سماجی تناظر میں ایک غیر معمولی واقعہ تھا
گرینڈ ٹرنک پیسیفک ریلوے کی انتظامیہ اور اس وقت کی حکومت نے ان ہڑتالوں کو کچلنے کے لیے طاقت کا بھرپور استعمال کیا۔ کئی مزدوروں کو گرفتار کیا گیا کیمپوں سے بے دخل کیا گیا اور پولیس کے ذریعے تشدد کا نشانہ بنایا گیا
لیکن یہ جبر ان کی آواز کو دبانے میں ناکام رہا۔ کینیڈین انسائیکلوپیڈیا کے مطابق، ان ہڑتالوں نے کینیڈا میں یونین سازی کے تصور کو تقویت دی اور حکومت کو مجبور کیا کہ وہ کام کی جگہوں پر حفاظت اور اجرتوں سے متعلق قوانین پر نظرثانی کرے
آج جب ہم کینیڈا کے جدید ریلوے نظام پر سفر کرتے ہیں، تو فریزر ریور کی وہ ہڑتالیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ حقوق کبھی پلیٹ میں رکھ کر نہیں دیے جاتے، بلکہ ان کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے
ان محنت کشوں کی قربانیوں نے نہ صرف کینیڈا کا جغرافیہ بدلا بلکہ وہاں کے محنت کش طبقے کو وہ شعور دیا جس کے ثمرات آج کے جدید صنعتی قوانین کی صورت میں موجود ہیں۔ فریزر ریور کی لہریں آج بھی ان گمنام ہیروز کی داستان سناتی ہیں جنہوں نے سنگلاخ چٹانوں کے درمیان اپنے حقوق کا راستہ بنایا
