پینٹاگون کا لیبر یونین ختم کرنے کا حکم، امریکی لیبر یونینز اور انتظامیہ میں تصادم
سندھ میں تیل و گیس کی نئی دریافتیں: محنت کشوں کے لیئے نئے مواقع
رپورٹ ( بدر اسلام ، ریذیڈینٹ ایڈیٹر سندھ ) سندھ کے اضلاع خیرپور اور حیدرآباد میں تیل و گیس کے بڑے ذخائر کی حالیہ دریافت نے نہ صرف توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کی امید پیدا کی ہے،
بلکہ اس سے مقامی محنت کشوں کے لیے روزگار کے وسیع تر امکانات بھی روشن ہو گئے ہیں ان منصوبوں کی بدولت صنعتی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی جس کا براہِ راست فائدہ لیبر طبقے کو پہنچے گا
او جی ڈی سی ایل نے خیرپور میں اکھڑی ون کنویں سے یومیہ 10 ملین مکعب فٹ گیس کی دریافت کا اعلان کیا ہے۔ ایس آئی ایف سی کی نگرانی میں ہونے والی اس پیش رفت سے مقامی صنعتوں کو سستی گیس کی فراہمی ممکن ہو سکے گی
جب کارخانے اور صنعتی یونٹس مکمل صلاحیت کے ساتھ چلیں گے، تو وہاں ہزاروں کی تعداد میں ہنرمند اور غیر ہنرمند محنت کشوں کی طلب پیدا ہوگی، جس سے بے روزگاری کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
حیدرآباد کے پاساکھی 13 کنویں سےجو پاکستان کا پہلا افقی آئل ویل ہے تیل کی پیداوار کا آغاز ہو چکا ہے۔ جدید جیو اسٹیئرنگ ٹیکنالوجی کے استعمال نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان اب توانائی کے پیچیدہ منصوبوں کی صلاحیت رکھتا ہے
اس طرح کے ہائی ٹیک منصوبوں سے مقامی انجینئرز اور تکنیکی عملے کو جدید ترین مشینری پر کام کرنے کا تجربہ حاصل ہوگا، جو عالمی مارکیٹ میں ان کی فنی اہمیت کو مزید بڑھا دے گا
تیل و گیس کی مقامی پیداوار میں اضافے سے مہنگی ایل این جی اور پیٹرولیم مصنوعات کے درآمدی بل میں نمایاں کمی آئے گی۔ اس سے حاصل ہونے والی بچت کو حکومت بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور سماجی بہبود کے منصوبوں پر خرچ کر سکے گی
مزدور اور صنعتی ماہرین کا ماننا ہے کہ توانائی کی سستی فراہمی سے مینوفیکچرنگ سیکٹر مستحکم ہوگا، جس کے نتیجے میں دیہاڑی دار طبقے سے لے کر ٹیکنیشنز تک، معاشرے کے ہر طبقے کے لیے کام کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور ملک معاشی خود انحصاری کی جانب بڑھے گا۔
