April 17, 2026

کراچی پورٹ پر تجارتی تیزی

 کراچی پورٹ پر تجارتی تیزی

رپورٹ ( جے ایچ خان، ہیڈ کامرس اینڈ ٹریڈ ڈیسک ) پاکستان کی سب سے بڑی بندرگاہ کراچی پورٹ پر گزشتہ ایک ماہ کے دوران تجارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی ریکارڈ کی گئی ہے

کراچی پورٹ ٹرسٹ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 میں بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے والے جہازوں اور ہینڈل کیے جانے والے کارگو کی مقدار میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو ملکی معیشت اور صنعتی سرگرمیوں میں بہتری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے

کے پی ٹی حکام کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بندرگاہ پر مجموعی طور پر ایک لاکھ 65 ہزار 476 میٹرک ٹن کارگو ہینڈل کیا گیا اس حجم میں درآمدات کا پلڑا بھاری رہا

جہاں ایک لاکھ 24 ہزار 267 میٹرک ٹن مال درآمد کیا گیا جبکہ برآمدی کارگو کی مقدار 41 ہزار 209 میٹرک ٹن ریکارڈ کی گئی ماہرین کے مطابق درآمدی حجم میں اضافہ صنعتی خام مال اور ضروری اشیاء کی طلب میں بڑھوتری کو ظاہر کرتا ہے

گزشتہ ایک ماہ کے دوران کنٹینر شپس اور ٹینکرز کی آمد میں تسلسل دیکھا گیا ہے صرف حالیہ چوبیس گھنٹوں میں 7 نئے جہاز بندرگاہ پر لنگر انداز ہوئے جن میں کنٹینر بردار ٹینکر اور بلک کارگو ویسلز شامل تھے

 اسی دوران 6 جہاز اپنا سامان اتارنے اور لوڈ کرنے کے بعد اپنی اگلی منزلوں کی جانب روانہ ہوئے کنٹینرائزڈ کارگو سب سے نمایاں رہا جس کی مجموعی مقدار ایک لاکھ 10 ہزار 40 میٹرک ٹن رہی

بندرگاہ پر ہینڈل کیے جانے والے سامان میں نمایاں تنوع دیکھا گیا ہے جس میں سیمنٹ کلنکر چاول کیمیکلز کھاد اور مائع کارگو شامل ہیں خاص طور پر چاول اور سیمنٹ کی برآمدات میں اضافہ ملکی پیداواری صلاحیت کے تسلسل کی عکاسی کرتا ہے

 پورٹ حکام کا کہنا ہے کہ آپریشنل صلاحیتوں میں بہتری اور کلیئرنس کے عمل میں تیزی کی وجہ سے جہازوں کے انتظار کے وقت میں کمی آئی ہے جس سے عالمی شپنگ لائنز کا اعتماد بحال ہوا ہے

کے پی ٹی کے مطابق آئندہ دو روز کے دوران مزید متعدد بڑے کنٹینر بردار جہازوں کی آمد متوقع ہے جس سے پورٹ پر تجارتی گہما گہمی میں مزید اضافے کا امکان ہے

 تجارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر کراچی پورٹ پر سرگرمیوں کا یہی تسلسل برقرار رہا تو یہ رواں مالی سال کے تجارتی اہداف کے حصول میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے تاہم درآمدات اور برآمدات کے درمیان فرق کو کم کرنا معیشت کے لیے اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp