April 17, 2026

عالمی تجارتی 80 سالہ تاریخ کے بدترین بحران کا شکار

 عالمی تجارتی 80 سالہ تاریخ کے بدترین بحران کا شکار

رپورٹ ( جے ایچ خان، ہیڈ کامرس اینڈ ٹریڈ ڈیسک ) ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی سربراہ نگوزی اوکونجو ایویالا نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تجارتی نظام گزشتہ آٹھ دہائیوں کے بدترین اور سنگین ترین چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے

کیمرون کے دارالحکومت یاؤنڈے میں منعقدہ وزارتی کانفرنس کے آغاز پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والا کثیرالجہتی ڈھانچہ اب ناقابل واپسی طور پر تبدیل ہو چکا ہے

ڈبلیو ٹی او کی ڈائریکٹر جنرل نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا اس وقت جن مسائل کی شدت اور وسعت کا سامنا کر رہی ہے اسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا

انہوں نے مشرق وسطیٰ کی جنگ یوکرین کے تنازع اور سوڈان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان جغرافیائی سیاسی کشیدگیوں نے بین الاقوامی تجارت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں اوکونجو ایویالا کے مطابق خلیج میں تنازع سے قبل ہی توانائی کھاد اور خوراک کی عالمی تجارت غیر مستحکم ہو چکی تھی جس نے سپلائی چین کو بری طرح متاثر کیا ہے

چار روزہ اجلاس کے لیے 166 ممالک کے تجارتی وزراء ایک ایسے وقت میں جمع ہوئے ہیں جب رکن ممالک کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں ڈبلیو ٹی او جو کبھی عالمی تجارت کا محور تھا اب بڑھتی ہوئی تحفظ پسندی اور رکے ہوئے مذاکرات کے باعث کمزور دکھائی دیتا ہے

 کانفرنس کا بنیادی مقصد اس ادارے کو دوبارہ فعال کرنا ہے جو تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی شدید موسمی دباؤ اور عالمی سیاسی کھینچا تانی کے باعث اپنی گرفت کھو رہا ہے

نگوزی اوکونجو ایویالا نے افریقہ کو مستقبل کا براعظم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی مناسب ہے کہ عالمی نظام کی بے یقینی کے دور میں ہم افریقہ میں جمع ہوئے ہیں تاکہ تجارت کے مستقبل کا راستہ متعین کر سکیں واضح رہے کہ 2015 میں کینیا کے شہر نیروبی کے بعد یہ دوسری مرتبہ ہے کہ ڈبلیو ٹی او کی وزارتی کانفرنس کسی افریقی ملک میں منعقد ہو رہی ہے

ڈبلیو ٹی او سربراہ نے خبردار کیا کہ حالیہ رکاوٹیں صرف تجارتی مسائل نہیں بلکہ اس عالمی نظام میں بڑے اتھل پتھل کی علامت ہیں جو دوسری عالمی جنگ کے المیوں کو روکنے کے لیے بنایا گیا تھا

ان کا کہنا تھا کہ قومی حکومتیں اور بین الاقوامی ادارے ان پیچیدہ تبدیلیوں کو سمجھنے اور ان پر قابو پانے میں مشکلات کا شکار ہیں اگر ان مسائل کا حل نہ نکالا گیا تو عالمی معیشت مزید عدم استحکام کی جانب بڑھ سکتی ہے

image_printخبریں پرنٹ کریں
0 Shares

مزید خبریں

WhatsApp