پینٹاگون کا لیبر یونین ختم کرنے کا حکم، امریکی لیبر یونینز اور انتظامیہ میں تصادم
بھارت میں توانائی کی منتقلی کا عمل اور محنت کشوں کا مستقبل
رپورٹ ( عظمی سلطان، ہیڈ لیبر نیوز فارن ڈیسک ) بھارت میں کوئلے اور روایتی ایندھن سے ماحول دوست یا سبز توانائی کی طرف منتقلی کے عمل نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ عالمی صنعتی یونین کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اس بڑے معاشی بدلاؤ میں ان لاکھوں محنت کشوں کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے جن کی زندگیوں کا دارومدار روایتی توانائی کے شعبوں پر ہے
مزدور پالیسی سازی سے باہر رکھنے کے حوالے سے بھارتی حکومت اور متعلقہ ادارے توانائی کی منتقلی کے منصوبے بناتے وقت ٹریڈ یونینز اور مزدور نمائندوں کو اعتماد میں لینے میں ناکام رہے ہیں انڈسٹری آل کے مطابق یہ منتقلی صرف تکنیکی یا ماحولیاتی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک انسانی اور سماجی مسئلہ بھی ہے
اگر ان مزدوروں کو اس عمل کا حصہ نہ بنایا گیا تو کوئلے کی کانوں اور بجلی گھروں کی بندش سے لاکھوں خاندان خط غربت سے نیچے چلے جائیں گے
عالمی سطح پر ‘جسٹ ٹرانزیشن کا تصور عام ہے جس کا مطلب ہے کہ پرانی صنعتوں کی بندش سے پہلے وہاں کے ملازمین کے لیے متبادل روزگار، نئی مہارتوں کی تربیت اور سماجی تحفظ کا انتظام کیا جائے۔ تاہم بھارتی تناظر میں رپورٹ بتاتی ہے کہ فی الحال ایسا کوئی ٹھوس ڈھانچہ موجود نہیں ہے
بھارت میں لیبر یونین رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہم ماحول کی بہتری کے خلاف نہیں ہیں، لیکن یہ بہتری مزدوروں کی معاشی موت کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیے
بھارت دنیا میں کوئلے کا تیسرا بڑا پیدا کنندہ ہے اور اس کی معیشت کا ایک بڑا حصہ براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اس سے جڑا ہوا ہے خاص طور پر جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ اور اوڈیشہ جیسی ریاستوں میں جہاں کوئلے کی کان کنی روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ ہے وہاں سماجی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے
بھارت کے مزدوروں کا مطالبہ ہے کہ انہیں نئی گرین جابز سبز ملازمتوں میں ترجیح دی جائے اور ان کی تنخواہوں کا ڈھانچہ بھی متاثر نہ ہو
بھارت کے لیبر ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کو 2070 تک نیٹ زیرو اخراج کا ہدف حاصل کرنے کے لیے اپنی توانائی کی پالیسیوں میں بڑی تبدیلیاں کرنی ہیں عالمی یونین نے بھارت کی حکومت ہند پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایک سہ فریقی کمیٹی تشکیل دے
جس میں حکومت، مالکان اور مزدور نمائندے شامل ہوں تاکہ اس منتقلی کو شفاف اور منصفانہ بنایا جا سکے۔ اگر مزدوروں کے خدشات دور نہ کیے گئے تو بھارت کے لیے ماحولیاتی اہداف کا حصول سماجی احتجاج کی نذر ہو سکتا ہے
