پینٹاگون کا لیبر یونین ختم کرنے کا حکم، امریکی لیبر یونینز اور انتظامیہ میں تصادم
تین کروڑ محنت کش خلیجی ممالک کی معیشت کا انجن کردار
رپورٹ ( رئیس احمد، نمائندہ لیبر نیوز متحدہ عرب امارات ) خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک یعنی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر، عمان اور بحرین کی معاشی ترقی کا تذکرہ جب بھی ہوتا ہے تو اکثر بلند و بالا عمارتوں اور تیل کے وسیع ذخائر کا نام لیا جاتا ہے۔ اس چمک دمک کے پیچھے چھپی اس اصل قوت کو بے نقاب کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جو اس پورے خطے کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ قوت ان ساڑھے تین کروڑ غیر ملکی محنت کشوں پر مشتمل ہے جو تعمیراتی مقامات سے لے کر بڑے بڑے کارپوریٹ بورڈ رومز تک ہر شعبے میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
خلیجی خطہ اس وقت دنیا میں غیر ملکی افرادی قوت کے سب سے بڑے مراکز میں سے ایک بن چکا ہے۔ یہاں مقیم پینتیس ملین سے زائد تارکین وطن نہ صرف نجی شعبے کو چلا رہے ہیں بلکہ بہت سے ممالک میں ان کی تعداد مقامی آبادی سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ مثال کے طور پر متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے ملکوں میں کل آبادی کا ایک بڑا حصہ غیر ملکیوں پر مشتمل ہے جو وہاں کی روزمرہ زندگی اور معاشی پہیہ گھمانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
ماضی میں خلیجی ممالک میں غیر ملکیوں کا کردار زیادہ تر مزدوری اور تعمیراتی کاموں تک محدود سمجھا جاتا تھا، لیکن اب منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ جدید رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ یہ محنت کش اب صرف سڑکوں اور پلوں کی تعمیر تک محدود نہیں رہے بلکہ وہ مالیاتی اداروں، صحت کے شعبے، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اعلیٰ انتظامی عہدوں پر بھی براجمان ہیں۔ سعودی عرب کے وژن 2030 جیسے بڑے منصوبوں کی کامیابی کا دارومدار بھی بڑی حد تک ان ماہرین اور ہنرمندوں پر ہے جو دنیا بھر سے آ کر یہاں مقیم ہوئے ہیں۔
یہ افرادی قوت صرف خلیجی ممالک کی ترقی کا باعث نہیں بن رہی بلکہ یہ اپنے آبائی ممالک کے لیے بھی معاشی بقاء کا ذریعہ ہے۔ پاکستان، بھارت، فلپائن اور مصر جیسے ممالک کو سالانہ اربوں ڈالر کا زرمبادلہ ان ہی محنت کشوں کی بدولت حاصل ہوتا ہے۔ یہ سرمایہ ان ممالک کے ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے اور لاکھوں خاندانوں کی کفالت میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیج کی لیبر مارکیٹ اور ان ممالک کی معیشتوں کے درمیان ایک ایسا گہرا رشتہ بن چکا ہے جسے جدا کرنا اب ناممکن ہے۔
حالیہ برسوں میں خلیجی ریاستوں نے اپنے لیبر قوانین میں بڑی تبدیلیاں کی ہیں۔ کفالہ نظام میں اصلاحات، ویزا پالیسیوں میں نرمی اور گولڈن ویزا جیسے اقدامات کا مقصد باصلاحیت غیر ملکیوں کو طویل عرصے تک اپنے ہاں روکنا ہے۔ تاہم رپورٹ میں اس جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ عالمی معاشی اتار چڑھاؤ اور مشرق وسطیٰ کی موجودہ سیاسی صورتحال ان محنت کشوں کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ خلیجی ممالک اب اپنی معیشتوں کو تیل پر انحصار سے نکال کر متنوع بنا رہے ہیں، اور اس سفر میں ساڑھے تین کروڑ غیر ملکی ورکرز کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے
